ریاستِ پاکستان امن، استحکام، علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، ہماری مسلح افواج کی جوابی صلاحیت فیصلہ کن ہے: صدرمملکت
صدر مملکت کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ امن، استحکام اور علاقائی سالمیت پر ریاستِ پاکستان کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ہماری مسلح افواج کی جوابی صلاحیت فیصلہ کن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شامی حکومت اور امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف میں جنگ بندی ہوگئی۔
پاک-افغان کشیدگی
پاک-افغان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے جاری بیان میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ آج پاکستان کی با وقار قوم اور ہماری دلیر مسلح افواج وطن کی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ کیلئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔ کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان دباؤ یا دھمکی سے مرعوب ہوگا، ہماری مسلح افواج کی جوابی صلاحیت ہمہ گیر، بروقت اور فیصلہ کن ہے، اور وہ دشمن کے ناپاک عزائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بھرپور استعداد رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور چین نے مل کر چاول کا نیا ہائبرڈ بیج تیار کرلیا
پاکستان کی مواقف
صدرِ مملکت نے کہا کہ ہم تصادم نہیں چاہتے، لیکن اگر کسی نے پاکستان کے امن کو کمزوری سمجھا تو اسے سخت جواب ملے گا۔ پچھلے 5 سال سے احسان فراموش طالبان رجیم اپنے محسن پاکستان کے خلاف اپنے ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ذریعے پاکستان کے طول و عرض میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ٹی یونیورسٹی کے قیام سے متعلق کیس؛ سپریم کورٹ نے انویسٹمنٹ کے پیسے درخواستگزار کو واپس کرنے کا حکم دیتے درخواست نمٹا دی
سفارتی کوششیں
ان کا کہنا تھا کہ ہماری تمام سفارتی کارروائیاں، برادر ممالک اس مجرم ٹولے کو راہ راست پر لانے میں ناکام ہوئے۔ آج اس مجرم اور بزدل ٹولے نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان کی سالمیت کو للکارا ہے۔ پاکستان نے ذمہ دار ریاست کے طور پر سفارتی ذرائع اختیار کیے اور برادر ممالک کی معاونت سے اس مجرم گروہ کو راہِ اعتدال پر لانے کی سنجیدہ کوشش کی، مگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہو سکی۔
خودکش حملے کے بعد کا ردعمل
آصف علی زرداری نے کہا کہ میں نے 8 فروری کو اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد طالبان رجیم کو واضح اور سخت الفاظ میں متنبہ کیا تھا، اور 5 روز قبل 22 فروری کو بھی اسی ٹولے کو دوبارہ دو ٹوک پیغام دیا تھا۔ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ تشدد کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور سرپرست کہاں بیٹھے ہیں، اگر خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تو ذمہ دار عناصر کی رسائی سے باہر کوئی نہیں ہوگا.








