نام بگاڑ کر پکارنا جائز نہیں، عروہ حسین کے نام پر مفتی کا ردعمل وائرل
عروہ حسین کا نام اور مفتی صاحب کا ردعمل
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) نامور پاکستانی اداکارہ عروہ حسین کی جانب سے اپنے نام کے ساتھ ’حسین‘ کی جگہ انگریزی میں ’Hocane‘ لکھنے کے معاملے پر نجی ٹی وی کی رمضان ٹرانسمیشن میں ایک مفتی صاحب کا ردعمل سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
ان دنوں مختلف ٹی وی چینلز پر رمضان ٹرانسمیشنز نشر ہو رہی ہیں، جن میں مختلف اسلامی مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام سماجی اور مذہعی امور پر اسلامی نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے کہا ہے آئندہ کوئی ایسا حکم نہیں دیں گے کہ اسلام آباد کی طرف چڑھ دوڑیں، بیرسٹر گوہر
سیلیبریٹیز کے ناموں کی تبدیلی
حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اسلامی ناموں کو جان بوجھ کر تبدیل کرنے یا انہیں ماڈرن انداز دینے کے رجحان پر گفتگو کی گئی۔ دورانِ پروگرام میزبان نے سوال کیا کہ آج کل بعض سیلیبریٹیز اپنے ناموں کی سپیلنگ تبدیل کر رہے ہیں، جیسے عروہ حسین کا اصل نام ’حسین‘ ہے مگر اسے ’ہوکین‘ لکھا اور بولا جاتا ہے، اس بارے میں شرعی مؤقف کیا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتہ) کا دن کیسا رہے گا ؟
مفتی صاحب کا مؤقف
مفتی صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی کا نام بگاڑ کر پکارنا جائز نہیں، ’ہوکین‘ عربی زبان کا نام نہیں ہے، اس لیے اس طرح کے انداز میں نام لینا درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایتھنز میں ’’معرکۂ حق اور استحکامِ پاکستان‘‘ کے عنوان سے عظیم الشان سیمینار، اہم شخصیات کی شرکت، مسلح افواج سے والہانہ محبت کا اظہار
واقعات اور نصیحت
انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ علی ابن ابی طالب نے ایک شخص کو کسی کا نام بگاڑ کر پکارتے دیکھا تو فرمایا کہ تم اس پر ظلم کر رہے ہو کیونکہ کسی کا نام درست ادا کرنا اس کا حق ہے اور یہ نام اس کے والدین کی طرف سے رکھا جاتا ہے۔
اسلامی ناموں کی اہمیت
مفتی صاحب کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی نام رکھتے وقت بھی احتیاط کی ضرورت ہے، بعض لوگ ’محمد‘ نام رکھنے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ اس کے تقاضے اور احترام زیادہ ہیں، اسی طرح جان بوجھ کر نام کو بدل دینا بھی مناسب طرزِ عمل نہیں۔








