طالبان رجیم دہشتگردوں کی ماسٹرپراکسی ہے، یواین رپورٹ کہتی ہے 21 کے قریب دہشتگرد تنظیمیں آپریٹ ہورہی ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
آپریشن غضب للحق کی بریفنگ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی آئی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری افغانستان کی طالبان رجیم کے خلاف آپریشن غضب للحق کے حوالے سے بریفنگ دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر ی پاک فوج کو اپنا محافظ تصور کرتے ہیں، پاکستان کے بھارت کو منہ توڑ جواب پر حریت کانفرنس کا ردعمل
بارڈر کے قریب کارروائیاں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان طالبان رجیم نے اسے بنیاد بنا کر سوکالڈ ایکشن کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کو 13 سال پرانے مقدمے میں بڑی کامیابی، 3 ارب 9 کروڑ موصول
طالبان رجیم اور دہشت گردی
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم دہشتگردوں کی ماسٹرپراکسی ہے، یواین رپورٹ کہتی ہے 21 کے قریب دہشتگرد تنظیمیں آپریٹ ہورہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے 54 پیسے کی بڑی کمی، نوٹی فیکیشن جاری
فائرنگ کے واقعات
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا، تمام 53 مقامات پر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عبیرہ ضیاء کی اپنے والد کے ہمراہ پارلیمانی سیکرٹری برائے ماحولیات کنول لیاقت سے ملاقات، ماحولیاتی چیلنجز پر تبادلہ خیال
آپریشن کے نتائج
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک، جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں، طالبان رجیم کی 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں جبکہ دشمن کے 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ کی جاچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وہ ملک جہاں نمک کا شدید بحران پیدا ہوگیا
فضائی کارروائیاں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فضائی کارروائیوں میں افغانستان کے مختلف علاقوں کو ٹارگٹ کیا گیا، اہداف میں کسی بھی سویلین کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ کہا جارہا ہے کہ افغانستان میں سویلین انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایاگیا، افغان میڈیا اور سوشل میڈیا کا جھوٹ کل سے سن رہے ہیں، دہشت گردوں کی پوسٹوں اور گن پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا۔
شہادت اور اعزاز
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغان طالبان اور دہشت گردوں نے مل کر پاکستان پر حملہ کیا، کلمہ طیبہ کی وجہ سے افغان پرچم احترام سے اتارا گیا، آپریشن میں پاک فوج کے 12 سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا۔








