مولانا عبدالغفور حیدری کا پاکستان اور افغانستان سے جنگ بندی کا مطالبہ
کشیدگی پر تشویش
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ عسکری کارروائیوں سے دونوں ملکوں کے عوام شدید اضطراب کا شکار ہیں اور خطے کا امن داؤ پر لگ چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں برادر اسلامی ممالک ہیں، اس لیے حالات کو مزید بگاڑنے کے بجائے فوری جنگ بندی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: صدرِ مملکت نے ہائیکورٹس کے ایڈیشنل ججز کی توثیق اور توسیع کی منظوری دیدی
مذاکرات کی ضرورت
مولانا عبدالغفور حیدری نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف سرحدی علاقوں کے رہائشیوں بلکہ پورے خطے کے لیے بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ پیچیدگیاں بڑھتی ہیں، اس لیے قیادت کو سنجیدگی اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی صدر آصف زرداری سے ملاقات
عالمی کردار کی اہمیت
انہوں نے خطے میں امن کے خواہاں ممالک پر زور دیا کہ وہ پرامن اور مثبت سفارتی کردار ادا کریں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں، خصوصاً امریکہ، خطے میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے تقسیم کی سیاست سے گریز کریں کیونکہ اس طرزِ عمل سے پہلے ہی غیر مستحکم خطہ مزید انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہ سلیمان کے ندی نالوں میں طغیانی، اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم
مسلم ممالک کی یکجہتی
مولانا عبدالغفور حیدری نے مسلم دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک کو اپنے اصل دشمنوں کو پہچاننا ہوگا اور باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق امتِ مسلمہ کا اتحاد ہی موجودہ حالات میں وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے شرمناک جرم میں ملوث غیر ملکی خاتون گرفتار
غزہ کی صورتحال
انہوں نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جاری مظالم نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور مسلم دنیا کو اس معاملے پر مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسلامی ممالک متحد ہو جائیں تو وہ نہ صرف اپنے داخلی مسائل حل کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی مؤثر آواز بلند کر سکتے ہیں۔
بھارت کو خبردار
آخر میں انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ خطے میں مداخلت سے گریز کرے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بیرونی عناصر کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے باہمی معاملات خود طے کرنے چاہییں اور کسی تیسرے فریق کو اس میں دخل اندازی کا موقع نہیں دینا چاہیے۔







