اگر نیوزی لینڈ یہ میچ جیت جاتا تو سیمی فائنل تک رسائی کی راہ بہت آسان ہو جاتی، کیوی کپتان مچل سینٹنر
نیوزی لینڈ کے کپتان کی گفتگو
کولمبو (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں شکست کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بہترین اور سخت مقابلہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سفارت خانہ پاکستان ابو ظہبی میں نئے تزئین و آرائش والے نادرا ہال کا افتتاح
انگلش بلے بازوں کی تعریف
انہوں نے مزید کہا کہ انگلش بلے بازوں بالخصوص ول جیکس اور ریحان احمد نے جس طرح ہدف کا تعاقب کیا اور میچ کا اختتام کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ مچل سینٹنر نے اعتراف کیا کہ اگر نیوزی لینڈ یہ میچ جیت جاتا تو ان کی سیمی فائنل تک رسائی کی راہ بہت آسان ہو جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج :وزیراعلیٰ پنجاب کی شہید کانسٹیبل کے ورثا کو 2.9 کروڑ، زخمیوں کو 10 لاکھ دینے کی منظوری
مڈ اننگز کا تجزیہ
کیوی کپتان کے مطابق ان کی ٹیم نے کھیل کے آغاز میں ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کر دیا تھا اور ایک موقع پر لگ رہا تھا کہ اسکور 170 سے تجاوز کر جائے گا، لیکن ٹیم 159 رنز تک ہی محدود رہی۔
یہ بھی پڑھیں: معاہدے کے تحت رہائش فراہم نہ کیے جانے کا نوٹس، سعودی وزارت حج و عمرہ نے مقامی کمپنی اور بیرون ملک ایجنٹ کی سروسز معطل کردیں۔
اسکور کے بارے میں رائے
انہوں نے کہا کہ ہم 170 سے 175 رنز کے ہدف کو اچھا اسکور سمجھ رہے تھے لیکن دوسرے ٹائم آؤٹ کے بعد کچھ مشکل آپشنز لینے کی وجہ سے رنز کی رفتار برقرار نہ رہ سکی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرستان میں پاک فوج اور خوارج کے مابین فائرنگ کا تبادلہ، لیفٹیننٹ کرنل اور 5 جوان شہید
ریحان احمد کی کارکردگی
انگلش بلے باز ریحان احمد کی تعریف کرتے ہوئے سینٹنر نے کہا کہ انہوں نے اپنی کلاس کا مظاہرہ کیا، وہ اسپن کو بہت اچھا کھیلتے ہیں اور دباؤ کے باوجود بالکل پرسکون رہے۔
شراکت داری کا اثر
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ انگلینڈ نے آغاز میں چند وکٹیں گنوا دی تھیں، لیکن ٹام بینٹن اور سیم کرن کی شراکت داری نے ان کے لیے جیت کی بنیاد فراہم کر دی تھی۔








