سینیٹ میں ورچوئل اثاثہ جات ترمیمی بل منظور، بغیر لائسنس سروس دینے پر 5 سال قید اور 50 ملین جرمانہ ہوگا
سینیٹ میں ورچوئل اثاثہ جات ترمیمی بل کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ میں ورچوئل اثاثہ جات ترمیمی بل منظور کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ ٹریڈ سینٹر دبئی میں دی بگ 5 گلوبل 2025 میں پاکستان پویلین کا افتتاح
نئے ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام
منظور کردہ بل کے مطابق، ورچوئل اثاثوں اور ورچوئل اثاثوں کے سروس فراہم کرنے والوں کے لائسنس، ریگولیشن اور نگرانی کے لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ یہ اتھارٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت، اور ورچوئل اثاثوں کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: موٹر وے پر پولیس وین ٹرک سے ٹکرا گئی، 2 اہلکار جاں بحق، 8 زخمی
صارفین اور سرمایہ کاروں کا تحفظ
اتھارٹی پاکستان کی ورچوئل اثاثہ مارکیٹ کے صارفین اور سرمایہ کاروں کی حفاظت کے لیے بھی سرگرم رہے گی۔ یہ مختلف ریگولیشنز اور گائیڈ لائنز بنائے گی اور لائسنس جاری یا معطل کرنے کی طاقت بھی رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کی صورتحال کے بارے میں پاکستانی عوام کیا رویہ رکھتے ہیں؟۔؟گیلپ نے عوامی سروے کے نتائج جاری کر دیئے
بین الاقوامی تعاون
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، یہ اتھارٹی دیگر ممالک کی ریگولیٹری اتھارٹی اور ایجنسیوں کے ساتھ باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلوں کے معاہدے بھی کرے گی۔ بغیر لائسنس ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم کرنے پر 5 سال تک قید اور 50 ملین تک جرمانے کی سزا ہوگی۔
بل کا اطلاق
یہ بل پاکستان یا بیرون ملک ورچوئل اثاثے فراہم کرنے والوں اور جاری کنندگان پر بھی نافذ ہوگا۔








