مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی، کم از کم 8 ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں
ایران کے خلاف حملوں کے نتیجے میں کشیدگی
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائی کے باعث مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں کم از کم 8 ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر احسن اقبال کا حیدر آباد سکھر موٹر وے رواں سال شروع کرنے کا وعدہ
فضائی رابطوں پر اثرات
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق غیر معمولی صورتحال نے یورپ اور ایشیا کے درمیان فضائی رابطوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی ایئرلائنز کو پروازیں منسوخ، معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑ رہی ہیں۔ فضائی حدود بند کرنے والے ممالک میں ایران، اسرائیل، عراق، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور شام شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: Peshawar High Court Returns Petition to Remove KP Chief Minister with Objections
ایئرلائنز کی جانب سے معطلی
امارات ایئرلائن نے دبئی ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں معطل کر دیں۔ فلائی دبئی کی سروسز بھی متاثر ہوئیں۔ قطر ایئرویز نے عارضی طور پر پروازیں روک دیں، جبکہ اومان ایئر نے بغداد کے لیے پروازیں معطل کر دیں۔ کویت ایئرویز نے ایران کے لیے تمام پروازیں بند کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: کس لئے ظلم ہے دہشت ہے یہاں پر یارو۔۔۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کا فیصلہ
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے بھی مشرق وسطیٰ کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں ترکش ایئرلائن سمیت دیگر ترک فضائی کمپنیوں نے ایران، عراق، شام، لبنان، اردن، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کے قتل کا کیس، شوہر اور اس کا ساتھی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
یورپی فضائی کمپنیوں کی جانب سے اقدامات
جرمنی، فرانس، برطانیہ اور نیدرلینڈز کی بڑی فضائی کمپنیوں نے تل ابیب، دبئی، بیروت اور ریاض سمیت کئی شہروں کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دی ہیں۔ بعض طیاروں کو دوران سفر واپس موڑ دیا گیا۔
ایئر انڈیا اور دوسری ایئرلائنز کی معطلی
ایئر انڈیا نے مشرق وسطیٰ کے لیے تمام پروازیں معطل کر دیں، جبکہ دہلی سے تل ابیب جانے والی پرواز کا رخ موڑ دیا۔ جاپان ایئرلائنز نے ٹوکیو سے دوحہ کی پرواز منسوخ کر دیں۔ دیگر بھارتی ایئرلائنز نے بھی ممکنہ تاخیر اور خلل سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔








