اسرائیلی حملوں میں 2 اہم شخصیات کی شہادت ہو گئی، خبر ایجنسی کا دعویٰ
اسرائیلی حملوں کی تازہ ترین اطلاعات
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) خبرایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں 2 اہم شخصیات کی شہادت ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اے این ایف: 39 کروڑ 67 لاکھ سے زائد مالیت کی منشیات برآمد ، 3 ملزمان گرفتار
شہید ہونے والے افراد
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق ایران پر اسرائیل کے حملے میں ایرانی وزیر دفاع اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ کی شہادت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزیر دفاع امیر نصیر زادہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور شہید ہو گئے ہیں۔ یہ معلومات اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے باخبر دو ذرائع اور ایک علاقائی ذریعے نے فراہم کیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقبال سنگھیڑا کو ایک معروف یوٹیوبر کے ساتھ والی بیرک میں رکھا گیا تھا، اجمل جامی کا دعویٰ
باضابطہ تصدیق کی عدم موجودگی
تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیملی پنشن لینے والے اور نئے پنشنرز بھی اضافے سے مستفید ہوں گے، پنشن میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری
جوابی کارروائیاں
خیال رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے گئے ہیں جن میں کئی ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کے سینئر کمانڈرز اور سیاسی حکام جاں بحق ہوئے ہیں۔
ایران نے بھی جوابی کارروائی کی ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کو ’’آپریشن وعدہ صادق 4‘‘ کا نام دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت
امریکی فوجی اڈوں پر حملے
ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے خطے میں موجود کئی امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ بھی شامل ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ فلسطینی علاقوں (اسرائیل) کے مرکز میں واقع فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کی عزم کا اظہار
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ’’آپریشن وعدہ صادق 4‘‘ امریکی فوج اور بچوں کے قاتل صہیونی حکومت کے خلاف کیا جا رہا ہے، جس کے تحت جارح دشمن کے علاقائی اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے جاری رہیں گے۔








