خامنہ ای سے ملاقات کے لیے لوگوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جاتا تھا، بڑا دعویٰ
سخت سیکیورٹی انتظامات
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی کے آخری ہفتوں میں سیکیورٹی انتظامات اس حد تک سخت اور غیر معمولی ہو چکے تھے کہ جدید دور میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اعلیٰ حکام کو ان سے ملاقات کے لیے لے جاتے وقت آنکھوں پر پٹیاں باندھی جاتی تھیں تاکہ انہیں اس مقام کا علم نہ ہو سکے جہاں سپریم لیڈر موجود ہیں۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو بھی خامنہ ای کے خفیہ ٹھکانے پر لے جانے سے پہلے آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، بعد ازاں وہ سفارتی ملاقاتوں کے لیے عمان روانہ ہوئے۔ یہ کوئی علامتی اقدام نہیں تھا بلکہ اس خوف کی عکاسی کرتا تھا کہ ریاستی نظام کے اندر تک رسائی ہو چکی ہے اور قیادت کو بھی مکمل اعتماد میں نہیں لیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق، مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری
زیر زمین پناہ گاہ
مصنف شناکا پریرا کے مطابق خامنہ ای تہران میں ایک نجی زیرِ زمین بنکر میں منتقل ہو گئے تھے۔ جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ بارہ روزہ جنگ کے بعد یہ دوسری مرتبہ تھا جب انہوں نے روپوشی اختیار کی۔ یہ بنکر باہم جڑے ہوئے سرنگوں کے ایک پیچیدہ نظام کا حصہ تھا۔ ایرانی فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اس کمپلیکس کے دو گہرے ترین بنکر ایسے تھے جنہیں صرف امریکی اسلحہ ہی نشانہ بنا سکتا تھا، تاہم خامنہ ای ان میں سے کسی میں موجود نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف ایگزیکٹو لیسکو کی زیر صدارت ایم اینڈ ٹی ہیڈز کا اجلاس، اہم فیصلے
امریکی نگرانی
امریکی خفیہ ادارے کئی ماہ سے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ بارہ روزہ جنگ کے دوران امریکی اداروں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ خامنہ ای اور پاسدارانِ انقلاب دباؤ کی حالت میں کس طرح رابطہ کرتے اور مقام تبدیل کرتے ہیں۔ انہی معلومات کی بنیاد پر نگرانی کا ایک ایسا نظام تیار کیا گیا جس نے ان کی روزمرہ سرگرمیوں اور سیکیورٹی معمولات کا مکمل خاکہ مرتب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا؟
ٹرمپ کے دعوے
سترہ جون 2025 کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ انہیں خامنہ ای کے ٹھکانے کا مکمل علم ہے۔ انہوں نے انہیں آسان ہدف قرار دیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ اس وقت انہیں قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ دس دن بعد انہوں نے ایک اور بیان میں کہا کہ انہوں نے خامنہ ای کو ایک بدصورت اور ذلت آمیز انجام سے بچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی گارڈ کا 13 سالہ بلے باز بیٹا جنہیں انڈین پریمیئر لیگ میں ساڑھے تین کروڑ روپے میں خریدا گیا
سخت حفاظتی اقدامات
ان بیانات کے بعد خامنہ ای مزید گہرائی میں چلے گئے، ملاقاتوں کا دائرہ محدود کر دیا گیا اور اعتماد کا حلقہ انتہائی مختصر ہو گیا۔ تاہم امریکی نگرانی کا سلسلہ جاری رہا۔ ہفتہ کی صبح خفیہ اداروں کو اطلاع ملی کہ خامنہ ای تہران کے وسط میں واقع ایک محفوظ مقام پر سیاسی اور عسکری قیادت کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے مقام کے بارے میں انتہائی درست معلومات حاصل تھیں۔ ابتدائی طور پر کارروائی رات کے وقت کی منصوبہ بندی کے تحت تھی، مگر بعد میں وقت تبدیل کر کے صبح کر دیا گیا تاکہ قیادت ایک ہی جگہ جمع ہو۔
خطرات اور ٹیکنالوجی
سخت ترین سیکیورٹی اقدامات، زیرِ زمین پناہ گاہیں اور آٹھ ماہ کی پیشگی وارننگ بھی اس نگرانی کے نظام کو دھوکہ نہ دے سکیں جو خاموشی سے ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ ایرانی سیکیورٹی اداروں نے اندرونی معلومات کے اخراج کو روکنے کے لیے اپنے ہی حکام کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں، مگر جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی نگرانی کے جال کو بے اثر نہ کر سکے۔
They blindfolded his own officials before taking them to meet him. It was not enough.
In the final weeks of Ayatollah Ali Khamenei’s life, Iranian security protocols reached a level of paranoia without modern precedent. Senior officials who needed to meet the Supreme Leader were… https://t.co/USfa1Vaad3 pic.twitter.com/XRRpwnEXw1
— Shanaka Anslem Perera ⚡ (@shanaka86) March 1, 2026








