کیا ایران کی جانب سے پہلے حملے کے کوئی شواہد تھے۔۔۔؟ پینٹاگون کا اہم بیان آ گیا
ایران کے حملے کے شواہد
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا ایران کی جانب سے پہلے حملے کے کوئی شواہد تھے؟ اس حوالے سے پینٹاگون کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بھتہ خور ایک بار پھر سرگرم، فیکٹری مالک کو 5 لاکھ بھتے کی پرچی موصول، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا
پینٹاگون کا بیان
تفصیلات کے مطابق، پینٹاگون نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پہلے حملے کے کوئی شواہد نہیں تھے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران کو بریفنگ دیتے ہوئے یہ معلومات فراہم کیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے اپنی سب سے بھاری سیٹلائٹ لانچ کردی
خفیہ معلومات کی عدم موجودگی
’’جنگ‘‘ کے مطابق، پینٹاگون نے یہ بھی وضاحت کی کہ امریکہ کے پاس ایسی کوئی خفیہ معلومات موجود نہیں تھیں جو ظاہر کرتی ہوں کہ ایران پہلے امریکی افواج پر حملہ کرنے والا تھا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ دو باخبر افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انتظامیہ کے حکام نے اعتراف کیا کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر پیشگی حملے کا کوئی واضح انٹیلی جنس ثبوت موجود نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پرنس آف ڈارکنس عوزی اوزبورن چل بسے
کانگریس کو بریفنگ
گذشتہ روز کانگریس کو دی گئی بریفنگ نے جنگ کے حق میں پیش کیے گئے ایک اہم مؤقف کو کمزور کر دیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی
واضح رہے کہ ایک روز قبل اعلیٰ حکام نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ نے حملوں کا فیصلہ جزوی طور پر ان اشاروں کی بنیاد پر کیا کہ ایران ممکنہ طور پر مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر پیشگی حملہ کر سکتا ہے۔








