چین: جمع شدہ رقم واپس لینے پر بچے نے والد کیخلاف مقدمہ دائر کر دیا
چین میں بچے کا والد کے خلاف عدالت میں مقدمہ
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن) چین میں ایک بچے نے اپنی جمع شدہ رقم واپس لینے کے لیے والد کے خلاف عدالت میں کیس دائر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے حوالے سے اہم سوال اٹھا دیا
بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات
شمالی چین کے صوبے ہینان کے شہر ژینگژو میں ایک شخص نے سالوں پہلے اپنے بیٹے شیاؤ ہوئی کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ کھولا تھا۔ اس میں بچے کی قمری سالِ نو کے تحفے، جسے ریڈ اینویلپ منی کہا جاتا ہے، سمیت دیگر رقم جمع کرواتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ خوش آئند ہے: لیاقت بلوچ
والد کی غلطی
تاہم ایک دن والد نے بچے کی اجازت کے بغیر یہ تمام رقم نکال کر اپنی دوسری شادی پر خرچ کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی؛ بھارتی بورڈ نے پاکستان کو ہائبرڈ ماڈل پر منانے کیلئے کیا کام شروع کر دیا؟
طلاق اور بچت کی صورتحال
دو سال قبل والدین کی طلاق کے بعد شیاؤ ہوئی اپنے والد کے ساتھ رہ رہا تھا۔ اس دوران اس کی بچت باقاعدگی سے اسی بینک اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہی، جبکہ والد نے دوبارہ شادی کر لی اور شیاؤ ہوئی کو اس کی والدہ کے پاس بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک نے 3 ماہ میں پاکستانیوں کی 2 کروڑ سے زائد ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں
رقم کا انکشاف
بیٹے کی ماں کو معلوم ہوا کہ والد نے شیاؤ ہوئی کی تقریباً 80 ہزار یوآن (تقریباً 11 ہزار 700 امریکی ڈالرز) کی جمع شدہ رقم نکال کر اپنی شادی کے اخراجات میں استعمال کر دی ہے، جو بچے کی عمر کے لحاظ سے کافی بڑی رقم تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق ہمارا قرض دار ہے ، شاندانہ گلزار
عدالت کا مقدمہ
جب شیاؤ ہوئی نے اپنی جمع شدہ رقم واپس مانگی تو والد نے کہا کہ یہ زیادہ تر خاندان اور دوستوں کی جانب سے دی گئی رقم ہے اور صرف اس وقت واپس کریں گے جب شیاؤ ہوئی بالغ ہو جائے گا۔ متعدد کوششوں کے ناکام ہونے پر شیاؤ ہوئی نے والد کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے چیچن مسلمانوں کے قتل عام، فلسطینی اور بوسنیائی باشندوں اور ہندوستان کے ظلم و ستم کا شکار مظلوم کشمیریوں کیلئے ہمدردی کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا؟
والد کا موقف
بچے کے والد نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ قانونی سرپرست ہونے کی وجہ سے رقم کو اپنی صوابدید سے استعمال کرنے کا حق دار ہوں، اور مقدمہ دراصل والدہ کی اکسانے پر دائر کیا گیا ہے۔
عدالت کا فیصلہ
تاہم عدالت نے فیصلہ دیا کہ تحفے کے طور پر ملنے والی رقم قانونی طور پر شیاؤ ہوئی کی ذاتی ملکیت ہے اور اس کے والد نے اس حق کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ والد کو تمام رقم بمعہ سود واپس کرنا ہو گی، جو مجموعی طور پر 82 ہزار 750 یوآن (تقریباً 12 ہزار 60 امریکی ڈالرز) بنتی ہے۔








