نیٹو ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا، سیکرٹری جنرل کا اعلان
نیٹو کا جنگ میں شمولیت سے انکار
برسلز (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں نیٹو کے شامل ہونے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے، تاہم انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کو اہم قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین ایس ای سی پی، کمشنرز کی تنخواہوں میں سالانہ ڈیڑھ ارب غیر قانونی اضافے کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا
ایران کی جوہری صلاحیت کا تذکرہ
برسلز میں جرمن ٹیلی ویژن اے آر ڈی کو دیے گئے انٹرویو میں مارک روٹے نے کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیت اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو کمزور کرنا نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق حالیہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو نقصان پہنچانا ہے جس کے ذریعے وہ جوہری ہتھیار بنانے یا میزائل طاقت میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت، پاکستان سے یکجہتی کا اظہار
نیٹو کی پوزیشن کی وضاحت
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ نیٹو کے طور پر اس جنگ میں شامل ہونے یا اس کا حصہ بننے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ البتہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نیٹو کے انفرادی رکن ممالک اپنی صوابدید کے مطابق اقدامات کر سکتے ہیں، جیسا کہ بعض ممالک امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملاقاتیں ہوں یا مذاکرات، سنجیدگی ضروری ہے، شرائط نہیں، انصاف کے مطابق فیصلے ہوتے تو ابھی تک بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہو چکی ہوتی، بیرسٹر گوہر
کشیدگی میں اضافہ اور حکمت عملی
سی این این کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹو کے رکن ممالک خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اپنی اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔ برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا حصہ نہیں ہے، تاہم اس نے اپنے فوجی اڈوں کو دفاعی نوعیت کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، جن کا ہدف ایران کے میزائل ذخائر بتائے گئے ہیں۔
مشترکہ بیان اور دفاعی اقدامات
اتوار کے روز برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ خطے میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے دفاع کے لیے اقدامات کریں گے۔ بیان میں عندیہ دیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو اس کے منبع پر نشانہ بنانے کے لیے متناسب اور دفاعی نوعیت کی کارروائیوں میں سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔








