ٹریفک جام کرنے والے بس ڈرائیور نے پولیس اہلکار کو بس میں بند کر کے مبینہ طور پر اغوا کر لیا، مقدمہ درج
کراچی میں ٹریفک اہلکار کا اغوا
گزشتہ روز شاہراہ اورنگی پر ٹریفک اہلکار کو اغوا کر کے اس پر تشدد اور ہتھیار چھیننے کی کوشش کی گئی تھی، جس کا مقدمہ اورنگی ٹان تھانے میں پولیس کانسٹیبل سرفراز خان کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے وفاداری کسی کام نہ آئی، پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے دانش کنیریا کی تصویر انڈین سٹیڈیم سے ہٹا دی گئی۔
واقعہ کی تفصیلات
اہلکار کے مطابق اورنگی میں چورنگی نمبر 5 پر دیگر اہلکاروں کے ساتھ ڈیوٹی انجام دے رہا تھا، افطار سے قبل جے ایف 1999 نمبر کے ڈرائیور نے بس سڑک کے بیچ کھڑی کر دی۔ بس ڈرائیور سواریوں کا انتظار کر رہا تھا لیکن پیچھے ٹریفک جام ہونے لگا۔ میں نے ڈرائیور کو سائیڈ پر کرنے کا کہا مگر اس نے بس سائیڈ پر نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ افغانستان سے لائی گئی لڑکی کا شادی سے انکار، پولیس سے مدد طلب کر لی
ڈرائیور کی بھاگنے کی کوشش
اہلکار نے کہا کہ میں پسنجر گیٹ سے چڑھا تو ڈرائیور نے بس بھگا لی اور کنڈکٹر نے دروازہ بند کر دیا۔ مجھے اغوا کر کے تیز رفتاری سے بس بھگانے لگے، اسی دوران تیز رفتار بس بورڈ آفس کے قریب اورنج لائن بس کے فٹ پاتھ اور گرل سے ٹکرا گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نفرت، عدم برداشت، نا اتفاقی کا خاتمہ برداشت اور اتفاق کیساتھ ہی ممکن ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
تشدد کی صورت حال
اہلکار نے کہا کہ میں تیزی سے نیچے اترا تو ڈرائیور اور کنڈیکٹر مجھ سے مار پیٹ کرنے لگے، مجھ سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی اور میرے ہاتھ کا انگوٹھا توڑ دیا۔ اہلکار کے مطابق مار پیٹ سے اندرونی چوٹیں آئیں، چہرے اور دائیں ہاتھ اور گھٹنے پر بھی چوٹیں لگیں۔
پولیس کی کارروائی
پولیس کا کہنا ہے کہ بس ڈرائیور موقع سے گرفتار ہو گیا ہے تاہم کنڈیکٹر موقع سے فرار ہو گیا، جس کے تلاش جاری ہے۔








