بونانزا سترنگی کی سی ای او کو ایرانی سپریم لیڈر کے خلاف نازیبا ریمارکس پر قانونی نوٹس جاری
مریم حنیف بلوانی پر قانونی نوٹس
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف کاروباری شخصیت اور بونانزا سترنگی کی سی ای او مریم حنیف بلوانی کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی موت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر توہین آمیز اور اشتعال انگیز پوسٹ شیئر کرنے پر قانونی نوٹس بھیج دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی پور، نجی سکول کے مالک کا مکروہ چہرہ بے نقاب، ایک متاثرہ خاتون کے اہلخانہ کی مدعیت میں تھانہ سٹی میں مقدمہ درج
قانونی نوٹس کی تفصیلات
حیدر لاء ایسوسی ایٹس کے سینئر وکیل شہریار دلشاد نے یہ نوٹس کراچی کے رہائشی بلاول حسین بلوچ کی جانب سے ارسال کیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مریم حنیف نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایسی پوسٹ شیئر کی جس میں ایرانی سپریم لیڈر کو مبینہ طور پر اسلام کا دشمن قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مجوزہ آئینی ترامیم عوام سے خفیہ رکھی جارہی ہیں : بیرسٹر سیف
مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام
قانونی نوٹس کے متن کے مطابق یہ ریمارکس ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب پوری مسلم امہ آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر سوگوار ہے، لہٰذا اس عمل سے نہ صرف مذہبی جذبات مجروح ہوئے بلکہ یہ اقدام فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ حرکت پاکستان پینل کوڈ اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی متعلقہ دفعات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
معذرت اور مواد ہٹانے کا مطالبہ
مذکورہ نوٹس کے ذریعے مریم حنیف بلوانی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 14 دن کے اندر اپنے ان ریمارکس پر مسلم امہ اور سائل سے غیر مشروط عوامی معذرت کریں اور متنازع مواد کو فوری طور پر سوشل میڈیا سے ہٹائیں۔ نوٹس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں معافی نہ مانگی گئی تو ان کے خلاف متعلقہ عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں فوجداری اور دیوانی کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا، جس کے تمام تر اخراجات اور ہرجانے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔








