چین ایران پر فوجی حملوں کی مخالفت کرتا ہے، چینی وزیر خارجہ نے فون کرکے اسرائیلی ہم منصب پر واضح کر دیا
چین کی اسرائیل کو واضح پیغام
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب گیڈون ساعر سے ٹیلیفونک گفتگو میں واضح کیا ہے کہ بیجنگ ایران پر فوجی حملوں کی مخالفت کرتا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ؛ قومی ٹیم کے حتمی سکواڈ میں کون سے کھلاڑی جگہ نہیں بنا پائیں گے؟
ایران کی حمایت میں چین کی آواز
الجزیرہ کے مطابق بیجنگ، جو تہران کا قریبی شراکت دار سمجھا جاتا ہے، پہلے ہی جنگ بندی کا مطالبہ کر چکا ہے اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کو “سنگین خلاف ورزی” قرار دے چکا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیر خارجہ سے گفتگو میں وانگ یی نے براہِ راست مذمت سے گریز کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل “مکالمے اور مشاورت” کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ یہ تفصیلات سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا نے جاری کیں۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی جریدے “دی ڈپلومیٹ” نے بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی کو تسلیم کرلیا
ایران-امریکا مذاکرات کی صورتحال
وانگ یی کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات میں واضح پیش رفت ہو رہی تھی، لیکن افسوس کہ یہ عمل گولیوں کی گونج میں رک گیا۔ انہوں نے امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مخالفت دہراتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حقیقی حل نہیں بلکہ اس سے نئے مسائل اور سنگین نتائج جنم لیتے ہیں۔
فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ
چینی وزیر خارجہ نے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کیا گیا تو تنازع مزید پھیل کر قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔








