اگر جنگ طویل ہوئی تو امریکہ کو مشکلات ہوں گی، پاکستان سفارتی محاذ پر کیا کوشش کر رہا ہے؟ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے بتا دیا
امریکہ کو مشکلات کا سامنا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جنگ طویل ہوئی تو امریکہ کو مشکلات ہوں گی، پاکستان سفارتی محاذ پر کیا کوشش کر رہا ہے؟ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے بتا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکپتن، دوسری شادی سے منع کرنے پر شوہر نے بیوی کو قتل کردیا
رشتہ دارنہ جنگ کی کوششیں
’’جیو نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا الللہ کا کہنا تھا کہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے، ہماری سفارتی محاذ پر کوشش ہے کہ کسی معاہدے پر یہ جنگ ختم ہوجائے۔ لگتا ہے کہ جنگ طول پکڑے گی اور اگر جنگ طول پکڑتی تو امریکہ کو مشکلات ہوں گی۔ ایران کے معاملے میں پہلے بھی مذاکرات میں ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ شاید امریکہ کو یہ اندازہ تھا کہ ایران پر پہلے بڑے حملے کے بعد ایران پیچھے ہٹ جائے گا، شائد امریکہ کو لگتا تھا کہ بڑے حملے کے بعد ایران امریکا کی تمام شرائط کو یک طرفہ طور پر مان لے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپیئنز ٹرافی، بھارتی ٹیم کی پاکستان آمد سے متعلق شعیب اختر کا حیران کن بیان
عسکری قیادت کی بریفنگ
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ عسکری قیادت نے آج بریف کیا کہ ایران سے پہلے اور اب بھی رابطے کر رہے ہیں۔ عسکری قیادت نے بتایا کہ کوشش ہے کہ غلط فہمی دور ہو، ایران کے خلیجی ممالک پر حملے نہیں ہونے چاہئیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج بتایا کہ ان کی کس طرح سے مختلف ممالک سے بات چیت ہوئی۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران نے کہا کہ سعودی عرب گارنٹی دے کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہوگی تو حملے نہیں کریں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ کافی مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطے پاکستان کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔ بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان اور دیگر نے بریفنگ میں موجودہ صورت حال پر مشورے دیئے۔
بریفنگ کی تفصیلات
انہوں نے بتایا کہ بریفنگ کے دوران کلیئرٹی ہوئی ہے کہ ہمیں کس طرح کوشش کرنی چاہیے اور کن کن ممالک کو رابطوں میں شامل کرنا چاہیے۔ بریفنگ میں کچھ ممالک کے نام لیے گئے کہ ان سے بھی درخواست کریں کہ اس سلسلے میں پاکستان کی مدد کریں۔ امریکہ کو بھی باور کروایا جائے کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں پیش رفت کے بعد حملے کا جواز نہیں بنتا۔








