امریکہ کا بھارتی بندرگاہوں سے مستفید ہونے کا دعویٰ، بھارت کا مؤقف بھی آ گیا

امریکہ اور بھارت کی جانب سے تازہ دعوے

واشنگٹن /نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کا بھارتی بندرگاہوں سے مستفید ہونے کا دعویٰ، بھارت کا مؤقف بھی آ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ظفر حجازی نے وفاقی ٹیکس محتسب کا حلف اٹھا لیا

امریکی بیانات

تفصیلات کے مطابق امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر ڈگلس نے امریکی ٹی وی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ تنازع کے دوران امریکی بحری جہاز ممکنہ طور پر بھارتی بندرگاہوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، تجارت اور عوامی روابط بڑھانے پر اتفاق

بھارت کا ردعمل

’’جنگ‘‘ کے مطابق بھارت نے ایران کے خلاف جاری تنازع میں امریکی بحریہ کو بندرگاہیں دینے کا الزام مسترد کردیا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کی معاونت سے متعلق دعوؤں کو جھوٹا، بےبنیاد اور من گھڑت قرار دیا اور کہا کہ ایسے تبصروں سے گریز کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 8 یوم کی توسیع، نوٹیفکیشن جاری

سخت تردید

بھارتی وزارت خارجہ نے خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکی بحریہ کو بھارتی بندرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کا آج راولپنڈی میں ہونے والا میچ منسوخ کردیاگیا

عالمی تناظر میں واقعہ

بھارت کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سری لنکا کے ساحل کے قریب ایرانی جنگی جہاز پر امریکی آبدوز نے حملہ کیا، یہ واقعہ عالمی سطح پر زیر بحث ہے۔

حملے کی تفصیلات

امریکی آبدوز کے حملے میں نشانہ بننے والا ایرانی جنگی جہاز بھارتی میزبانی میں ہونے والی فوجی مشقوں میں شرکت کے بعد واپس آرہا تھا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...