پاکستان کے ہتھیاروں کے لیے بھاری مالی مدد دی، سعودی عرب کے پاس پہلے ہی کئی بم ہیں، امریکی ماہر Duane Clarridge کا پرانا انٹرویو وائرل

ایران کے خلاف کارروائیاں

واشنگٹن (ویب ڈیسک) ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی کارروائیوں اور پھر تہران کی طرف سے خلیجی ممالک میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے بعد مختلف ممالک کے دفاعی معاملات زیربحث ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں بروقت مؤثر کارروائی معصوم جانوں کا بدلہ ہے: طارق فضل چودھری

امریکی ماہر کا دعویٰ

اس دوران ایک امریکی ماہر Duane Clarridge کا جولائی 2015 کا انٹرویو وائرل ہوگیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے پاس کئی نیوکلیئر بم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کا عرس، 82 پاکستانی زائرین کو ویزے جاری

انٹرویو میں سوالات

دوران انٹرویو میزبان نے سوال کیا کہ سعودی عرب کے پاس مشرق وسطیٰ میں سے زیادہ پیسہ ہے، کیا ممکنہ طور پر نیوکلیئر بم حاصل کرلینے سے متعلق آپ کو تشویش ہے؟ جس کے جواب میں امریکی ایکسپرٹ نے کہا کہ سعودی عرب کے پاس پہلے ہی بم ہیں لیکن لوگ یاد نہیں کر پارہے۔

یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی علی امین گنڈا پور سے ملاقات، قیام امن کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی

پیشگوئی کی تصدیق

میزبان نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب کے پاس نیوکلیئر بم ہیں؟ جس پر Duane Clarridge نے کہا کہ کئی۔۔۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے پاکستانیوں کو ایٹمی ہتھیاروں کے لیے بلینز آف ڈالر کی مالی مدد دی اور بدلے میں کچھ لیا۔ اب لوگ اس پر بحث کر سکتے ہیں کہ چار نیوکلیئر ڈیوائسز پر حق تھا یا پھر سات پر، لیکن اس پر کوئی بحث نہیں کہ ان کے پاس ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی ہے۔

ٹویٹر پر تبصرہ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...