عرب ممالک کی فضائی حدود بند ہونے سے مٹن اور بیف کی برآمدات معطل، پاکستان میں گوشت سستا ہونے کا امکان
پاکستان سے مٹن اور بیف کی برآمدات معطل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) عرب ممالک کی فضائی حدود اور سمندری راستوں کی بندش کے باعث پاکستان سے مٹن اور بیف کی برآمدات مکمل طور پر معطل ہوگئی ہیں، جس سے قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم کے بعد بھی آرٹیکل6 موجود ہے، وقت آنے پر سب کو حساب دینا ہوگا، لطیف کھوسہ
بندش کے اثرات
نجی ٹی وی اے آر وائے نیوز کے مطابق عرب ممالک کی فضائی حدود اور سمندری راستوں کی بندش کو آج پانچواں روز ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان سے مٹن اور بیف کی برآمدات مکمل طور پر معطل ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی سے دہلی، کابل سے کراچی،غیر رسمی تجارت کے خفیہ راستے اور قومی مفاد
مالی نقصان اور مقامی مارکیٹ کی صورتحال
برآمدات رکنے کی وجہ سے جہاں گوشت کے بڑے تاجروں کو وسیع مالی نقصان کا سامنا ہے، وہیں مقامی صارفین کے لیے قیمتوں میں بڑی کمی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق عرب ممالک کو سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی مقامی منڈیوں میں گوشت کی وافر مقدار دستیاب ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
قیمتوں میں متوقع کمی
اس صورتحال میں مٹن کی قیمت میں 800 روپے اور بیف کی قیمت میں 500 روپے فی کلو تک کمی کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کے لیے گوشت کی سپلائی پہلے ہی بند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اب سمجھ آیا کہ پیار ایک ہی دفعہ ہوتا ہے: عاصم اظہر
مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھتا ہوا دباؤ
دوسری جانب لاہور اور کراچی کے بڑے ہول سیل ڈیلرز نے اس بحرانی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھانا شروع کر دی ہیں۔
ہول سیل مارکیٹ میں انتظامیہ کی جانب سے کسی موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے گوشت کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد سونے کی قیمت دھڑم سے گر گئی
موجودہ قیمتوں کی حد
اس وقت اوپن مارکیٹ میں بکرے کا گوشت 2600 سے 3000 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ گائے کا گوشت 1200 سے 1600 روپے فی کلو کی بلند سطح پر پہنچ چکا ہے۔
برآمد کنندگان کی تشویش
گوشت کے برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ راستوں کی بندش سے ان کا تیار مال خراب ہونے کا خطرہ ہے، جس سے نہ صرف تاجر بلکہ ملکی زرمبادلہ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔








