وہ بغیر نظر اٹھائے اپنا کام کرتے رہے، کمرے میں موت کی سی خاموشی تھی، کتنا عرصہ تم لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا بوجھ خود اٹھاؤں
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 458
یہ بھی پڑھیں: مشفیق الرحیم 100ویں ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے کھلاڑی بن گئے
واقعہ کی تفصیل
ایک روز میں ایک ٹرانسفر فائل پر کمشنر کی منظوری کے لئے ان کے دفتر تھا۔ وہ کسی سے فون پر بات کر رہے تھے۔ اتنے میں خالد وٹو اور ان کے ساتھ ہیڈ کواٹرز کے دونوں اے سی رانامنظور اور ظہیر بھی کمرے میں داخل ہوئے۔ کمشنر کی عادت تھی کہ جو پہلے آیا اس سے پہلے بات کرتے خواہ بعد میں آنے والا سینئر افسر ہی کیوں نہ ہو۔ فون ختم کرکے انہوں نے میری فائل پر بات شروع کی تو اسی دوران خالد نے ایک لفافہ ان کی ٹیبل پر بجائے رکھنے کے پھینک دیا۔ وہ بغیر نظر اٹھائے اپنا کام کرتے رہے۔ کمرے میں موت کی سی خاموشی تھی۔ فائل مجھے واپس کی اور خالد سے کہا؛
“Is this the way to present a document to a senior officer? Behave.”
ان کی آ واز میں تلخی محسوس کی جا سکتی تھی۔ ماحول سنجیدہ دیکھ کر میں نے اجازت چاہی تو بولے؛”بیٹھو تم۔“ دراصل خالد کے رویئے سے تنگ آ کر انہوں نے دو تین دن پہلے خالد کی سخت الفاظ میں جواب طلبی کی تھی۔ جس کا ذکر خالد نے مجھ سے بھی کیا تھا۔ مجھے خیال آیا یہ اسی سلسلے میں بات کرنے آئے ہو ں گے۔ خالد نے وہ چھٹی کمشنر کو پیش کی۔ انہوں نے ایک نظر چھٹی پر ڈالی اور بولے؛”Is there anything wrong in this letter? I had written what has been your attitude and performance.”
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کے بیان پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا رد عمل آ گیا
خالد کی غفلت اور کمشنر کا ردعمل
پھر انہوں نے خالد کی لاپروائیوں کی کہانی شروع کی۔ وہ چند منٹس بعد خاموش ہوئے تو خالد نے کہا؛”سر! میں آپ کے ساتھ مزید کام نہیں کرنا چاہتا۔” باقی دونوں افسروں نے بھی ایسے ہی کلمات کہے اور پہلے سے لکھے اپنے اپنے لیٹرز کمشنر کو پیش کئے۔ وہ بڑے اطمینان سے سب باتیں سن کر بولے؛”لکھ کر دو کہ تم یہاں مزید کام نہیں کرنا چاہتے۔ دراصل تم سبھی میری رعایت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو۔ میں تمھاری اے سی آر پر ایسے ریمارکس دوں گا اور دیکھوں گا تمھیں اگلے گریڈ میں ترقی کیسے ملتی ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرپٹو کونسل اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوگئے
جہاں تک معلومات کی رسائی ہے
وہ بول رہے تھے اور دوسری طرف مکمل خاموشی تھی۔ آخر میں ہمت کرکے بولا؛”سر! ہم سب پوری کوشش کرتے ہیں کہ بروقت اور ممکن حد تک درست معلومات آپ تک پہنچ سکیں لیکن ہمیں یہ رپورٹس فیلڈ سے اکٹھی کرنی ہوتی ہیں جو تاخیر سے پہنچتی ہیں اور انہیں چیک کرنے کا اتنا وقت نہیں ہوتا اور consolidate کرنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ ہم شاید آپ جتنے پرفیکٹ نہیں۔ ہماری نالائقی سمجھ۔۔۔۔” وہ بات کاٹتے بولے؛”کیا تم جانتے ہو چیف سیکرٹری روز رات 12 بجے مجھ سے رپورٹ ڈسکس کرتے ہیں؟ خالد کی رپورٹ میں کئی کالم خالی ہوتے ہیں۔ chief secretary مجھے ڈانٹ دے یا میں کیسے chief secretary کو مطمئن کرتا ہوں کبھی تم لوگوں سے ذکر کیا لیکن ہر چیز کی حد ہوتی ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: آئین کے آرٹیکل 6 کی کلاز 2 میں تبدیلی کا فیصلہ
کس طرح کا مؤقف اپنایا جائے
میں کتنا عرصہ تم لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا بوجھ خود اٹھاؤں۔ تمھیں بھی کتنی رعایت دی تم روز لاہور جاتے ہو۔ کبھی میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے جواب دیا؛ “سر! منہ پر شکریہ کیا ادا کروں مجھے اچھا نہیں لگتا۔ میں تو کل ہی سپیشل سیکرٹری بلدیات پنجاب داؤد بڑئیچ سے کہا رہا تھا کہ کمشنر نے مجھے روز لاہور جانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ سر! تعریف وہی جو پیٹھ پیچھے کی جائے منہ پر خوشامد ہوتی ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: ایران، اسرائیل تنازعہ، سعودی تیل کمپنی آرامکو کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ
خلاصہ اور نتیجہ
میں نے خالد سے بھی کہا؛”کمشنر صاحب کی بات درست ہے ہم سب کو کوئی نہ کوئی رعایت کمشنر کی بدولت حاصل ہے، ہمیں بھی چاہیے ہم اپنی ذمہ داری پوری دل جمعی سے ادا کریں۔ خوش اسلوبی اور مل جل کر کام میں ہی سب کی عزت ہے۔” خالد کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا۔ اس نے بھی “سوری سر” کہا۔ بات رفع دفع ہو گئی۔ ہم سب اجازت لے کر جانے لگے تو بولے؛”شہزاد! تم رکو۔” باقی چلے گئے تو کہنے لگے؛”تم ہر بار مجھ سے دوسروں کے لئے رعایت دلوا دیتے ہو۔ نا جانے ہر بار تمھاری بات مان کیوں جاتا ہوں۔”
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر پنجاب میں 2 شوگر ملز سیل
ختم کلام
میں نے کہا؛ “سر! آپ کی محبت اور بڑا پن ہے۔ آپ سخت افسر ہیں میں آپ کا مزاج سمجھ گیا ہوں، کوشش کرتا ہوں کہ آپ کے ڈسپلن اور اصول کے خلاف کوئی بات نہ کروں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ میری بات سن بھی لیتے ہیں اور مان بھی جاتے ہیں۔” وہ مسکرا دئیے، قہوہ پلایا اور میں اپنے دفتر چلا گیا۔
جاری ہے
نوٹ
یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








