بنوں، مردانہ حلیہ اپنانے پر مسلح افراد کا لڑکی پر بہیمانہ تشدد
تشدد کا واقعہ
بنوں(ویب ڈیسک) میں مسلح افراد نے ایک لڑکی پر بہیمانہ تشدد کیا جس کا باعث اُس کا مردانہ حلیہ اپنانا تھا۔ متاثرہ لڑکی کی ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسپیشل پراسیکیوٹر نیب پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا
پولیس کی تحقیقات
پولیس کے مطابق، تحصیل ڈومیل کے علاقے زیرکی سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی پر مسلح افراد نے تشدد کیا۔ لڑکی کو اس کے مردانہ حلیے اور لڑکے کے ساتھ رہنے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ اہلکاروں نے بیان دیا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں غذائی قلت پر سابق امریکی صدر باراک اوباما بھی بول پڑے، کیا مطالبہ کر دیا؟ جانیے
ویڈیو کا مواد
تشدد کے واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی سے کہا گیا کہ وہ آئندہ لڑکوں کے ساتھ نہیں گھومے گی اور گھر سے باہر بھی نہیں نکلے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کائنات میں سونا کہاں سے آیا، کیا سائنسدانوں نے معمہ حل کرلیا؟
ماریا طورپکئی کی رائے
ایورڈ وننگ پروفیشنل سکواش چیمپئن ماریہ طورپکئی وزیر نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "بنوں میں طالبان کی طرف سے ایک 12 سالہ لڑکی کو مارنا ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "افغانستان اور وزیرستان میں بہت سے مرد اپنے گناہوں کو چھپاتے ہیں، جیسے پیڈو فیلیا، منشیات، اور دیگر غیر اخلاقی کام، خواتین پر سخت قوانین نافذ کر کے یا مذہب کے ذریعے بچوں کی شادیوں کو جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ ان کا اپنے اصل چہروں کو چھپانے اور عزت دار نظر آنے کا طریقہ ہے۔"
سوشل میڈیا پر تنقید
The Taliban beating a 12-year-old girl in Bannu shows the mindset. Many men in Waziristan & hide their sins..pedophilia, drugs, & other immoral acts by enforcing harsh codes on women or using religion to justify child marriages. It’s their way to save their faces & look honourable pic.twitter.com/MKm02K4l51
— Maria ToorpakaiWazir (@MariaToorpakai) March 6, 2026








