خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں کم عمر بچیوں کی شادی کا قانون نہیں بنا، فواد چودھری
فواد چودھری کا پختونوں کے مسئلے پر بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ پختونوں کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہاں محنتی لوگ نہیں ہیں، بلکہ اصل مسئلہ خواتین اور بچوں کے ساتھ قبائلی رسوم کے نام پر انتہائی گھٹیا سلوک کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: کھارادر میں عمارت کی چھت گرگئی، تمام افراد بحفاظت ریسکیو
خیبرپختونخوا کا قانون اور حالیہ واقعہ
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جہاں کم عمر بچیوں کی شادی کا قانون نہیں بنایا گیا۔ تین دن پہلے بنوں میں ایک چھوٹی بچی کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے پر وہاں کے وزیر اعلیٰ یا اپوزیشن کے کسی بھی ممبر نے مذمت تک نہیں کی۔
سماجی مسائل اور شدید نتائج
فواد چودھری نے مزید کہا کہ اس غار کے زمانے کے مائینڈ سیٹ کے ساتھ آپ کا کیا مستقبل ہو سکتا ہے؟ باچا خان کے نام لیوا بھی اب قبائلی سسٹم کا شکار ہیں، جبکہ طالبان اور داعش کے عروج نے پختونوں کو مزید سماجی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔
پختونوں کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہاں hard working لوگ نہیں ان کا مسئلہ خواتین اور بچوں سے قبائلی رسوم کے نام پر انتہائی گھٹیا سلوک رکھنا ہے۔ پختونخواہ وہ واحد صوبہ ہے جہاں کم عمر بچیوں کی شادی کا قانون نہیں بنا، تین دن پہلے بنوں میں چھوٹی بچی کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا وہاں کے وزیر…








