جب بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں تو تنقید صرف طلعت حسین کے بیٹے پر کیوں؟

نوجوان کھلاڑی شامیل حسین: ایک متنازع انتخاب

تحریر: عمران ملک
پاکستان میں جب کوئی نوجوان کھلاڑی قومی ٹیم میں آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ “یہ صرف اس کے گھر کا نہیں، پورے ملک کا بچہ ہے۔”
مگر جیسے ہی اس نوجوان کا نام شامیل حسین سامنے آیا — بحث فوراً بدل گئی۔

کرکٹ کا معاملہ نہیں، بلکہ میرٹ کا بھی

اب سوال صرف کرکٹ کا نہیں رہا، بلکہ میرٹ، اثرورسوخ اور نام کے بوجھ کا بن گیا ہے۔

دونوں کیمپ: حمایت اور تنقید

شامیل حسین کی قومی اسکواڈ میں شمولیت نے پاکستان کے کرکٹ حلقوں اور سوشل میڈیا کو دو واضح کیمپوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو پوچھ رہے ہیں:
“کیا واقعی میرٹ کا قتل ہوا ہے؟”

اور دوسری طرف وہ آوازیں ہیں جو کہتی ہیں:
“کیا صرف اس لیے تنقید ہو رہی ہے کہ وہ طلعت حسین کا بیٹا ہے؟”

سیاست کا اثر

معاملہ اس وقت مزید گرم ہو گیا جب سیاسی شخصیات بھی اس بحث میں کود پڑیں۔

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے میرٹ کے سوال کو اٹھاتے ہوئے مثال دی نوجوان بلے باز شہزیب خان کی، جس نے جونیئر کرکٹ میں سری لنکا کے خلاف 126 اور بھارت کے خلاف 159 رنز بنا کر سب کو متاثر کیا، مگر اس کے باوجود مستقل مواقع نہیں مل سکے۔

ان کا سوال سادہ تھا مگر چبھتا ہوا:
“اگر اتنی کارکردگی کے باوجود راستہ بند ہے تو میرٹ کہاں ہے؟”

حکومتی دفاع

حکومتی ترجمان عطا اللہ تارڑ نے فوراً جواب دیتے ہوئے شامیل حسین کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کی سلیکشن محض کسی تعلق کی وجہ سے نہیں بلکہ مضبوط ڈومیسٹک کارکردگی کی بنیاد پر ہوئی ہے۔

اعداد و شمار کی حقیقت

اعداد و شمار کی دنیا میں جذبات کم چلتے ہیں۔ شامیل حسین کے حامی کہتے ہیں کہ ان کے ریکارڈ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

  • اس سیزن میں ریڈ بال کرکٹ میں 899 رنز
  • لسٹ اے کرکٹ میں 13 میچوں میں 556 رنز، اوسط 46.33
  • اسٹرائیک ریٹ 100 سے زیادہ
  • دو سنچریاں اور تین نصف سنچریاں

فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کے 2019 رنز، اوسط 45.88 اور چھ سنچریاں یہ بتاتی ہیں کہ وہ صرف کسی نام کا سہارا لے کر نہیں آئے۔

نام کا بوجھ

لیکن پاکستان میں مسئلہ صرف کارکردگی کا نہیں ہوتا،  تاثر بھی اتنا ہی طاقتور ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ میرٹ نہیں، نام کا بوجھ؟

اس تنازعے میں ایک تلخ حقیقت چھپی ہے۔ طلعت حسین ایک متنازع مگر بااثر صحافی سمجھے جاتے ہیں۔
ان کے چاہنے والے بھی ہیں اور ناقدین بھی۔

سوالات کی گونج

سوال یہ ہے:
اگر کسی عام کھلاڑی کے یہی اعداد و شمار ہوتے تو کیا اتنا شور مچتا؟

یا پھر واقعی پاکستان کے کرکٹ نظام میں کہیں نہ کہیں اعتماد کا بحران موجود ہے؟

سعود شکیل کا سوال

اسی بحث کے دوران ایک اور سوال دوبارہ سامنے آ گیا ہے۔ سعود شکیل: جنہوں نے بھارت کے خلاف اپنے آخری ون ڈے میں 75 گیندوں پر 62 رنز بنائے تھے، اچانک ون ڈے منصوبوں سے باہر کیوں نظر آ رہے ہیں؟

مداح پوچھ رہے ہیں کہ اگر فارم اور تکنیک اہم ہیں تو پھر تجربہ کار کھلاڑی کیوں نظرانداز ہو رہے ہیں۔

آنے والا امتحان

آخرکار سچ وہی ہوتا ہے جو اسکور بورڈ پر لکھا جاتا ہے۔ شامیل حسین کے لیے اب اصل امتحان شروع ہوا ہے۔ اگر وہ رنز بنا دیتے ہیں تو یہ شور خاموشی میں بدل جائے گا۔

اور اگر ناکام ہوئے تو یہی سوال پھر گونجے گا:
“یہ سلیکشن تھی یا سفارش؟”

لیکن ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہیے۔
اگر واقعی بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں تو پھر انصاف بھی سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے.
نہ صرف نام کی بنیاد پر راستہ کھلنا چاہیے،
اور نہ ہی نام کی بنیاد پر دروازے بند ہونے چاہئیں۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...