بھٹو مرکزی وزیر اور کنونشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بن گئے، بھارت سے ہزار سال جنگ کرنے کے نعرے لگا کر عوامی شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچے
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 327
جنرل ایوب خان کا دور (1958969)
راقم بطورِ جمہوریت پسند کبھی کسی بھی مارشل لاء فوجی اقتدار کا قائل رہا اور نہ کبھی شراکت دار رہا ہے۔ کاش سکندر مرزا اور ایوب خان ملی بھگت سے سول اقتدار کا خاتمہ نہ کرتے۔ 1956ء کے آئین کے مطابق وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کو 1958ء میں پہلے عام انتخابات کروانے دئیے جاتے۔ اْمید کی جا سکتی تھی کہ ایک پائیدار مستحکم جمہوری دور کا تسلسل قائم ہو جاتا۔ حکمران 1950ء کے عشرے والا میوزیکل چیئر کا کھیل نہ کھیلتے تو جمہوری طور پر ملک مستحکم ہو جاتا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ملک 1971ء میں دولخت نہ ہوتا۔ لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔ کچھ دنوں بعد فوجی حکمران جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو بھی ان کے صدر مملکت کے عہدہ سے ہٹا کر چلتا کیا اور انہیں لندن جا کر ایک ہوٹل کی نوکری کرنی پڑی۔
عوام کا رد عمل
عوامی سطح پر ایوبی مارشل لاء کا خیرمقدم کیا گیا۔ کیونکہ عوام گزشتہ عشرے کے دوران گورنر جنرل ملک غلام محمد اور بعدازاں صدر سکندر مرزا کے سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور تقریباً ہر سال وزیر اعظموں کو بدل دینے اور اقتدار سے رخصت کر دینے کے کھیل سے اْکتا چکے تھے۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی۔ کچھ پرانے سیاستدانوں کو ایبڈو زدہ قرار دے کر خاموش کر دیا گیا۔ اقتدار کے پجاری سیاستدان ایوب خاں کی کنوینشن مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ نوجوان ذوالفقار علی بھٹو جو اقتدار میں آنے کے لیے بے چین تھے اور سابق صدر سکندر مرزا کی خوشامد میں لگے ہوئے تھے آگے بڑھ کر فوجی آمر جنرل ایوب خاں کے ساتھی بن گئے اور اتنا آگے بڑھ گئے کہ انہیں ڈیڈی کہہ کر مخاطب کرنے لگے۔ ذوالفقار علی بھٹو جلد ہی مرکزی وزیر برائے تیل و گیس و قدرتی وسائل اور کنوینشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بن گئے۔ بعدازاں وزیر خارجہ بن کر اور اپنی تقریروں میں بھارت سے ہزار سال جنگ کرنے کے نعرے لگا کر عوامی شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچے۔
ملکی ترقی کے اقدامات
جنرل ایوب خاں نے اپنے اقتدار کے آغاز سے ہی ملک کی تعمیر و ترقی کے امور پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ ورلڈ بنک کے ایماء پر نہری پانی کے دیرینہ مسئلہ کے حل اور بھارت کی طرف سے آئے روز دریائی پانی کی بندش کی جھک جھک سے بچنے کے لیے سندھ طاس معاہدے (Indus Water Treaty) پر 19 ستمبر 1960ء کو دستخط کر دئیے۔ پاکستان کے اپنے حصے کے مشرقی 3 دریاؤں ستلج، راوی اور بیاس میں بہنے والا 16 ملین ایکڑ فٹ پانی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھارت کو دے دیا۔ جبکہ مغربی 3 دریاؤں چناب، جہلم دریائے سندھ کے پانی کا 93 فیصد پاکستان کے حصہ میں آیا۔
سندھ طاس معاہدے کے فوائد
پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کا جو سب سے بڑا فائدہ ہوا وہ یہ تھا کہ اس منصوبے کے تحت منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم کے منصوبے عمل میں لائے گئے۔ دریائے چناب پر مرالہ ہیڈ ورکس، دریائے راوی پر سدھنا ہیڈ ورکس، دریائے راوی پر بلوکی ہیڈ ورکس کی نئے طریقے سے تشکیل، دریائے چناب پر قادر آباد ہیڈ ورکس، دریائے جہلم پر رسول ہیڈ ورکس بنائے گئے۔ 7 رابطہ نہریں: (1) بلوکی سلیمانی نہر (2) تریمو سدھنائی نہر،(3) قادر آباد بلوکی نہر (4) چشمہ جہلم نہر (5) رسول قادر آباد نہر (6) تونسہ پنجند نہر (7) سدھنائی میلسی نہریں تعمیر کی گئیں۔ جن پر 1 ارب سے کم کل 90 کروڑ ڈالر خرچہ آیا.
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








