بین الاقوامی مارکیٹ سے سستا تیل خرید کر پاکستانی عوام کو مہنگے داموں بیچ کر حاصل ہونے والا منافع کس کی جیب میں جا رہا ہے، ماہر معاشیات فرخ سلیم کے سوال پر حکومت کا موقف بھی سامنے آگیا۔
حکومت کا مؤقف واضح
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ماہر معاشیات فرخ سلیم کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے بعد حکومت نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کا پہلا آف شور مصنوعی جزیرہ بنانے کا فیصلہ
فرخ سلیم کے سوالات
فرخ سلیم نے اپنے بیان میں کہا کہ حساب کتاب کے مطابق پیٹرول تقریباً 45 روز پہلے تقریباً 60 ڈالر فی بیرل کے حساب سے خریدا گیا تیل آج عوام کو تقریباً 327 روپے فی لیٹر کے نرخ پر فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے تقریباً 113 ارب روپے کا انوینٹری منافع بنتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ منافع آخر کس کے پاس جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے بلال احمد نے ورلڈ باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت لیا
وزیر مملکت کا جواب
اس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے وضاحت کی کہ یکم مارچ 2026 کو اعلان کردہ قیمتیں پندرہ روزہ اوسط نرخوں کی بنیاد پر مقرر کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق اس وقت ڈیزل کی قیمت تقریباً 88 ڈالر فی بیرل اور پیٹرول کی قیمت تقریباً 78 ڈالر فی بیرل تھی، تاہم 6 مارچ تک عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 149 ڈالر فی بیرل اور پیٹرول کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی امریکہ کی مرضی پر منحصر نہیں ہے، مفتاح اسماعیل
تیل کی ترسیل اور حکومت کی پالیسیاں
علی پرویز ملک کے مطابق سعودی عرب کے شہر یانبو سے پاکستان تک تیل کی ترسیل میں تقریباً 20 دن لگتے ہیں، اس لیے ریفائنریوں کو اس بات کا اعتماد ہونا ضروری ہے کہ آج مہنگا خریدا گیا خام تیل مستقبل میں سرکلر ڈیٹ کی نئی شکل اختیار نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم میں کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، مولانا فضل الرحمان کھل کر بول پڑے
توانائی کا تحفظ
انہوں نے کہا کہ غیر یقینی عالمی حالات میں توانائی کا تحفظ حکومتی پالیسی کا اہم حصہ ہے اور قیمتوں کی بروقت منتقلی ضروری ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور غیر ضروری خریداری کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار میں انوینٹری منافع اور نقصان دونوں معمول کا حصہ ہوتے ہیں اور حکومت کو صرف محدود ریگولیشن کے ساتھ مارکیٹ کو آزادانہ کام کرنے دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: تاجک فورسز کا افغانستان سے دراندازی کرنے والے 4 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
بیرونی کھاتوں کی صورتحال
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ ایران سے متعلقہ علاقائی کشیدگی کے باعث پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا ہوگا کیونکہ 2022 کی طرح ملک کو دوبارہ ڈیفالٹ کے خطرے کی طرف دھکیلنا مناسب نہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ذمہ دارانہ پالیسی پر گامزن ہے۔ ان کے مطابق عالمی قیمتوں میں کمی آنے پر اس کا فائدہ عوام تک ضرور پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے تاہم معاشی استحکام اور تیل کی فراہمی کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر تبصرہ
MNA Sba, your counter proposal is?! Absorb the oil shock & lead the country to an external account crisis? https://t.co/On0510FKZH
— Ali Pervaiz Malik (@AliPervaiz450) March 7, 2026








