مجھے جلدی ہے کسی اور جگہ جانا ہے
مصنف کی تفصیلات
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 79
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سیاحت کیلئے محفوظ ملک، لوگ امن پسند ہیں: عطا تارڑ
ریسٹ ہاؤس کا ماحول
ریسٹ ہاؤس کے کھلے لان میں آفیسر ٹینٹ لگا دیا گیا۔ جس میں لیٹرین اور واش رُوم کا بھی بندوبست تھا۔ ساتھ ہی کورے لٹھے کے دو تھان لے کر درزی سے کھلے آسمان تلے پردے میں بیٹھنے کے لیے ایک چار دیواری بنوا کر لگوا دی۔ ساتھ ہی بیڈ منٹن کا نیٹ لگا دیا گیا تاکہ شام کو اس گیم سے لطف اندوز ہوسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: مس یونیورس مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی روما ریاض نے رنگت پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دے دیا
برف کا بندوبست
ریسٹ ہاؤس کے پاس ایک برف کا کارخانہ تھا۔ ریسٹ ہاؤس کا چوکیدار اُسے مطلع کر دیتا تھا کہ یہاں ایک آفیسر آکر ٹھہر گئے ہیں تو ہر روز وہ برف کا آدھا بلاک اپنے کارندے کی معرفت ریسٹ ہاؤس کے پاس پھینکوا دیتا تاکہ اپنی ضرورت کے مطابق برف استعمال کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے اندرون و بیرون ملک جانیوالی متعدد پروازیں منسوخ، تاخیر کا شکار
تفریح کا سامان
ہمیں بھی دُور کی سُوجی اور ایک دن جب فیصل آباد جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں سے ہاتھ سے چلنے والی آئس کریم بنانے والی مشین لے آئے۔ بندوق بارہ بور تو اپنے پاس تھی ہی۔ شام کو چھوٹی نہر پر سیر کے لیے نکلتے اور کبھی کبھار تیتر، ورنہ عام طور پر فاختاؤں کا شکار ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی جانب سے بھارتی صحافیوں کو منہ توڑ جواب دینے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی
آفیسر کی آمد
ایک دن جب کہ ہم ابھی ابھی آئس کریم بنا کر کھا چکے تو آئس کریم مشین برآمدے میں سامنے پڑی تھی۔ چونکہ شکار کے لیے نکلنے والے تھے لہٰذا بندوق بھی وہیں برآمدے میں ہی ایک جگہ ایستادہ تھی۔ باقی ریسٹ ہاؤس کے سامنے لان میں جو صورتِ حال تھا وہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ آفیسر ٹینٹ، کورے لٹھے کی چار دیواری اور بیڈمنٹن کا نیٹ، تو لاہور سے انسپکشن کے لیے ہمارے آفیسر ”حسن شاہد زیدی“ آئے جو ایک نہایت دیانتدار اور وضع دار شخصیت کے حامل تھے۔ سادہ طبیعت کے مالک تھے اور باغبانپورہ میں ایک کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چکوال کے قریب کار حادثہ، وزیراعلیٰ مریم نواز کا قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
انسپیکشن کا لمحہ
اُن کی جیپ جونہی ریسٹ ہاؤس کے برآمدے کے سامنے آکر رُکی تو میں فوراً وہاں پہنچا۔ اُس وقت اُن کا منہ سامنے لان پر گڑھا ہوا تھا۔ پھر اُنہوں نے ریسٹ ہاؤس کی طرف منہ پھیرا تو سامنے بندوق اور آئس کریم بنانے والی مشین پڑی تھی۔ اس سارے عرصے کے دوران وہ اپنا صرف ایک پاؤں زمین پر ٹیک چکے تھے۔ مجھ سے ہاتھ ملانے کے بعد اُن کا وہ پاؤں بھی اُٹھ گیا اور گویا ہوئے کہ ”مجھے جلدی ہے کسی اور جگہ جانا ہے“۔ یہ کہہ کر ڈرائیور کو اشارہ کیا اور اُن کی جیپ کچّے راستوں کی گرد کی لپیٹ میں آکر نظروں سے غائب ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلابی صورتحال، پانی لاہور میں داخل، اموات کی تعداد 20 ہو گئی
زیدی صاحب کی شناخت
یہ اُن کا انسپکشن کے لیے آنا اور پھر پل جھپکتے چلے جانا اتنا سیدھا واقعہ نہیں تھا۔ زیدی صاحب نمود و نمائش کے بالکل خلاف تھے۔ بساط سے بڑھ کر خرچہ اپنی لگی بندھی ماہوار آمدنی سے تو ممکن نہیں۔ لہٰذا اس کے لیے انسان اِدھر اُدھر ناجائز ہاتھ پاؤں مارے گا اور پھر آگے سے آگے بڑھتے ہوئے وہ سب حَدود پھلانگ جائے گا جس کی ایک صحت مند معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: صدرِ آصف علی زرداری نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے۔
آخری لمحات
ریسٹ ہاؤس میں آنے کے بعد انہوں نے دائیں طرف لگے ایک بڑے آفیسر ٹینٹ، کورے لٹھے کا ایک بڑا اوپن احاطہ اور ساتھ لگے بیڈمنٹن کے نیٹ کو دیکھا تو غالباً اُن کو اچھا نہ لگا اور پھر جب انہوں نے بائیں طرف نظر دوڑائی تو اُن کی نظر بندوق اور آئس کریم مشین پر پڑی تو جلتی پر تیل کا کام کر گئی۔ اُن کا پیمانہ ئ صبر لبریز ہو کر چھلکنے لگا اور اُن کا بایاں پاؤں جو زمین پر اُترنے کے لیے ٹیک لگا چکا تھا اس ناگہانی پریشر کے سبب اُوپر اٹھا اور اُن کی زبان نہ چاہتے ہوئے بھی بول اُٹھی ”بس جلدی ہے آگے جانا ہے“
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








