بڑے سے بڑا حملہ بھی ایران میں رجیم چینج نہیں لاسکے گا، امریکہ کی 18 انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف
ایران پر حملہ اور اس کے اثرات
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی 18 انٹیلی جنس ایجنسیوں نے قرار دیا ہے کہ ایران پر بڑے سے بڑے حملہ بھی وہاں رجیم چینج نہیں لاسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران دور حکومت میں مجھ پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنا کر گرفتار کیا گیا ، جیل میں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور علاج کی سہولت سے محروم رکھا، یہ دنیا مکافات عمل ہے،مفتی کفایت اللہ
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر حملوں سے بھی ایران کی موجودہ حکومت کو ہٹانا ممکن نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی گرفتاری: کیا سرکاری کام میں مداخلت پر دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے؟
خفیہ رپورٹ کی تفصیلات
امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے مطابق ایک خفیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر فوجی حملہ بھی ایران کی موجودہ حکومتی اور فوجی قیادت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ رپورٹ نیشنل انٹیلی جنس کونسل کے سینئر تجزیہ کاروں نے مرتب کی ہے، جو امریکا کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مشترکہ معلومات کی بنیاد پر خفیہ رپورٹیں تیار کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حالیہ حملے شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل مکمل کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کا شوق ہے، چاہتی ہوں نخرے اٹھانے والا شوہر ملے:خدیجہ سلیم
ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف ایک طویل فوجی مہم کی دھمکی دی ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تو شروعات ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کیا گیا تو ایران کی مذہبی اور فوجی قیادت پہلے سے طے شدہ پروٹوکول کے مطابق ردعمل دے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی اپوزیشن کا ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ رپورٹ میں امریکی زمینی افواج کے ایران میں داخلے یا کرد علاقوں میں بغاوت شروع کرنے جیسے متبادل راستے زیر غور نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیں: باراتیوں کی گاڑی کو حادثہ، 6 مسافر جاں بحق، 13 زخمی
خفیہ رپورٹ کی وضاحت
اخبار کے مطابق خفیہ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ 'بڑے پیمانے پر حملوں' سے مراد موجودہ فوجی کارروائی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 9 لاکھ 94 ہزار نوکریاں اور روزگار کے مواقع … وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ’’ایکس‘‘ اکاؤنٹ پر پوسٹ
ایران میں عوامی بغاوت کا فقدان
امریکی حکام کے مطابق ایران میں اب تک کوئی بڑے پیمانے پر عوامی بغاوت یا حکومت کے اندر ایسا فرق نہیں آیا جس سے نیا نظام قائم ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں فائرنگ کے واقعہ میں جاں بحق قوال احمد صابری اور ان کے بیٹے کی میت کراچی پہنچا دی گئی
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق ایران پر اس کی مذہبی اور فوجی قیادت کا ابھی بھی مکمل کنٹرول ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی سینئر محقق کے مطابق ٹرمپ کے آگے سر جھکانا ایران کی قیادت کے نظریات کے خلاف ہوگا، یہ لوگ امریکی سامراج کے خلاف مزاحمت کو اپنا اصول سمجھتے ہیں۔
سول رہنماؤں کی طاقت
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی سوزان مالونی کے مطابق ایران کے اندر کوئی ایسی طاقت موجود نہیں جو حکومت کی باقی ماندہ طاقت کا مقابلہ کر سکے، ملک کے اندر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔








