بڑے سے بڑا حملہ بھی ایران میں رجیم چینج نہیں لاسکے گا، امریکہ کی 18 انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف
ایران پر حملہ اور اس کے اثرات
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی 18 انٹیلی جنس ایجنسیوں نے قرار دیا ہے کہ ایران پر بڑے سے بڑے حملہ بھی وہاں رجیم چینج نہیں لاسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ قیمت 3لاکھ 63 ہزار 700 روپے ہو گئی
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر حملوں سے بھی ایران کی موجودہ حکومت کو ہٹانا ممکن نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ صورتحال میں ہم اپنے اماراتی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، سفیر پاکستان
خفیہ رپورٹ کی تفصیلات
امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے مطابق ایک خفیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر فوجی حملہ بھی ایران کی موجودہ حکومتی اور فوجی قیادت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ رپورٹ نیشنل انٹیلی جنس کونسل کے سینئر تجزیہ کاروں نے مرتب کی ہے، جو امریکا کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مشترکہ معلومات کی بنیاد پر خفیہ رپورٹیں تیار کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حالیہ حملے شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل مکمل کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا نیوز کی سالگرہ کے موقع پر جدہ میں پاک میڈیا جرنلسٹس فورم اور پاکستان جرنلسٹ فورم کی مشترکہ تقریب
ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف ایک طویل فوجی مہم کی دھمکی دی ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تو شروعات ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کیا گیا تو ایران کی مذہبی اور فوجی قیادت پہلے سے طے شدہ پروٹوکول کے مطابق ردعمل دے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی اپوزیشن کا ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ رپورٹ میں امریکی زمینی افواج کے ایران میں داخلے یا کرد علاقوں میں بغاوت شروع کرنے جیسے متبادل راستے زیر غور نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیں: راشد لطیف نے کراچی چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہونے کی وجہ بتا دی
خفیہ رپورٹ کی وضاحت
اخبار کے مطابق خفیہ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ 'بڑے پیمانے پر حملوں' سے مراد موجودہ فوجی کارروائی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور غزہ میں ریت کا طوفان
ایران میں عوامی بغاوت کا فقدان
امریکی حکام کے مطابق ایران میں اب تک کوئی بڑے پیمانے پر عوامی بغاوت یا حکومت کے اندر ایسا فرق نہیں آیا جس سے نیا نظام قائم ہو۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی انتخابات میں ’جیری مینڈرنگ‘ کیا ہے؟
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق ایران پر اس کی مذہبی اور فوجی قیادت کا ابھی بھی مکمل کنٹرول ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی سینئر محقق کے مطابق ٹرمپ کے آگے سر جھکانا ایران کی قیادت کے نظریات کے خلاف ہوگا، یہ لوگ امریکی سامراج کے خلاف مزاحمت کو اپنا اصول سمجھتے ہیں۔
سول رہنماؤں کی طاقت
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی سوزان مالونی کے مطابق ایران کے اندر کوئی ایسی طاقت موجود نہیں جو حکومت کی باقی ماندہ طاقت کا مقابلہ کر سکے، ملک کے اندر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔








