اپوزیشن اتحاد کا حکومت سے ایران جنگ میں فریق نہ بننے، بورڈ آف پیس چھوڑنے اور پیٹرول کی قیمت کم کرنے کا مطالبہ
اپوزیشن کا حکومت پر زور
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن اتحاد اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے حکومت سے بورڈ آف پیس سے فوری نکلنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: اب شہری گھر بیٹھے پنجاب بھر کی جیلوں میں ملاقات کی آن لائن بکنگ کر سکتے ہیں
پریس کانفرنس کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں سلمان اکرم راجہ، بابر اعوان اور علامہ راجہ ناصر عباس نے پیر کے روز پریس کانفرنس کی۔
یہ بھی پڑھیں: صوبے کا گورنر بعد میں ایم کیو ایم کا کارکن پہلے ہوں، کراچی کی سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں، کوئی پرسانِ حال نہیں، گورنر سندھ کامران ٹیسوری
سلمان اکرم راجہ کی تنقید
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس وقت خلیجی ممالک میں غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے، خطے پر بربریت مسلط کر دی گئی ہے۔ عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے ہر پہنچنے والی تھی مگر صہیونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اداروں اور عوام کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، اوپنر بیٹر صاحبزادہ فرحان 2 سنچریاں بنانے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے
عوام کے مسائل اور سزائیں
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ 55 روپے فی لیٹر پٹرول میں اضافہ عندیہ ہے کہ ہمارے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے۔ خطے میں کسی اور ملک میں اتنی قیمت نہیں بڑھی۔ اشرافیہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنی شاہ خرچی کم کرنے کے بجائے بوجھ عوام پر ڈال دیا۔ ہمیں اس نظام کو بدلنا ہو گا، یہ وقت ہے جب ماضی پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اووربلنگ کے ذریعے 244 ارب بٹورنے کا انکشاف
سینیٹر کا بیان
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے تمام قوانین کو پاوں تلے روند دیا ہے۔ یہ حملہ صرف ایران پر نہیں بلکہ پوری امہ پر ہے۔ عرب ممالک میں جو اڈے بنے آج سب کے سامنے وجہ واضح ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ویمنز ٹیم کے ہیڈکوچ اور کھلاڑیوں کی گرین شرٹس کیلئے نیک خواہشات
بابر اعوان کا مطالبہ
پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شمولیت کو فوری معطل کر دے۔ انڈونیشیا نے بھی بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ روک دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں 47 لوگوں کو ان کی عدم موجودگی میں سزائیں سنائی گئیں، اور ایسے فیصلوں کی کوئی حیثیت نہیں۔
آگے کا راستہ
اب یہ وقت ہے کہ حکومت کو بھیجا جائے یا پھر شفاف الیکشن کروائے جائیں۔ ایسا کوئی فارمولا نہیں بنا کہ عمران خان کے بغیر معاملات ٹھیک ہو سکیں۔ فوری طور پر عمران خان کو رہا کر کے گفتگو کا آغاز کیا جائے۔ ہمیں دو اسلامی ممالک کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہیے۔








