ایران جنگ کے دوران اسلحہ بنانے والی بڑی امریکی اور اسرائیلی کمپنیوں کے منافع اور شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
ایران جنگ کے دوران اسلحہ ساز کمپنیوں کی ترقی
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران جنگ کے دوران اسلحہ بنانے والی بڑی امریکی اور اسرائیلی کمپنیوں کے منافع اور شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان سفیر کی ایرانی سفارتخانے آمد، سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار تعزیت کیا
امریکی اور اسرائیلی دفاعی صنعت کی منافع بخش حالت
الجزیرہ کے مطابق، امریکا اور اسرائیل دفاعی صنعت کے لیے جنگ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار بنتی جا رہی ہے۔ امریکا پہلے ہی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اربوں ڈالر کے ہتھیار استعمال کر چکا ہے جس کے باعث دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنیوں کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نارتھروپ گرومن کے شیئرز تقریباً 5 فیصد بڑھ گئے۔ اسی طرح آر ٹی ایکس کارپوریشن (سابقہ ریتھیون) کے حصص میں بھی 4.5 فیصد اضافہ ہوا جب کہ لوک ہیڈ مرٹن کے شیئرز بھی تقریباً 3 فیصد اوپر چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں مزید 15 دنوں کے لیے دفعہ 144 نافذ
ماہرین کے مشورے اور مارکیٹ کی طلب
ماہرین کے مطابق، جنگ کے دوران میزائل دفاعی نظام، لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جدید گائیڈڈ ہتھیاروں کی مانگ میں اضافہ ان کمپنیوں کے لیے بڑے پیمانے پر منافع کا سبب بن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ کا مظفر آباد میں مسافر وین حادثے پر اظہار افسوس
امریکی صدر کا بیان
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دفاعی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کے بعد کہا کہ امریکی دفاعی صنعت انتہائی جدید ہتھیاروں کی پیداوار میں چار گنا تک اضافہ کرے گی۔
اسرائیلی دفاعی صنعت کا فائدہ
دوسری جانب اسرائیلی دفاعی صنعت بھی جنگ کے باعث فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اسرائیلی کمپنیوں کے جدید ہتھیار، ڈرونز، میزائل دفاعی نظام اور سائبر ٹیکنالوجی کی عالمی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل کی بڑی دفاعی کمپنی اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز اور رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹم سمیت کئی اداروں کو نئے بین الاقوامی آرڈرز مل رہے ہیں۔ ان کمپنیوں کی ٹیکنالوجی، خصوصاً میزائل دفاعی نظام اور ڈرونز، جنگی حالات میں آزمودہ ہونے کے باعث عالمی منڈی میں زیادہ مقبول ہو رہی ہے۔








