سائٹ کے صنعتکاروں کا شرح سود 10.5 فیصد برقرار رکھنے پر مایوسی کا اظہار
کراچی میں صنعتی حلقوں کے ردعمل
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمان فدا نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو صنعتی و تجارتی حلقوں کے لیے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زائد شرح سود کی وجہ سے صنعتوں کی توسیع اور پیداواری سرگرمیوں کو وسعت دینا ممکن نہیں کیونکہ مہنگی بجلی و گیس نے پہلے ہی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر کا ایران، اسرائیل تنازعہ ختم کرنے کے لیے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر سفارتی تجویز پیش کرنے کا اعلان
صنعتی شعبے کی ضروریات
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کے صنعتی شعبے کو اس وقت سہارا دینے کی ضرورت ہے، لیکن شرح سود میں کمی نہ ہونے سے صنعتکاروں اور برآمدکنندگان کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔ مہنگی بینک فنانسنگ کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے مقامی صنعت کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی زندگی کو بشریٰ بی بی سے خطرہ ہے اور ۔۔ فیصل واوڈا کا حیران کن دعویٰ
متوقع اقتصادی تبدیلیاں
عبدالرحمان فدا کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کے حکام خود اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ برآمدات میں کمی جبکہ درآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے جو معاشی سرگرمیوں کی سست روی کی علامت ہے۔ ایسے حالات میں توقع تھی کہ شرح سود میں کم از کم ایک سے ڈیڑھ فیصد کمی کی جاتی تاکہ تاجر برادری کو کچھ ریلیف ملتا اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے سیاحت کے لیے 50 سالہ روڈمیپ لانچ کر دیا
سستی فنانسنگ کی ضرورت
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ کی سطح پر لایا جاتا تو برآمدکنندگان کو سستی فنانسنگ میسر آ سکتی تھی جس سے وہ اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا کر عالمی مارکیٹوں میں بہتر انداز سے مقابلہ کر سکتے تھے۔ اس اقدام سے نہ صرف صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آتی بلکہ ملکی معیشت کو بھی تقویت ملتی۔
حکومت اور مرکزی بینک سے مطالبات
صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ آئندہ مالیاتی فیصلوں میں صنعت اور برآمدی شعبے کی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے تاکہ معیشت کی بہتری اور برآمدات کے فروغ کی راہ ہموار ہو سکے۔








