سیاستدانوں نے لوکل گورنمنٹ کے نظام کو پھلنے پھولنے نہیں دیا، یہ نظام جمہوریت کے پنپنے کی نرسری ہے اور یہی سے حقیقی جمہوری قیادت بنتی ہے۔
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 330
تعلیم اور ترقیاتی مسائل
اوکاڑہ، دیپالپور سے میرے بزرگ والد صاحب کے دوست ایم این اے راؤ افضل خاں مرحوم پہلے پاکستان کنونشن مسلم لیگ میں تھے، بعدازاں بھٹو صاحب کی محبت میں گرفتار ہو کر جیالے بن گئے تھے۔ کئی شادی بیاہوں میں بارات کے انتظار میں ان کے اور میرے درمیان بہت بحث و مباحث رہے۔
ایک دفعہ انہوں نے مجھے کہا کہ چھوٹے بھائی! مجھے آپ سے بہت گلہ ہے کہ آپ نے میرے لیڈر کی بہت توہین کی ہے۔ میں نے ادب سے جواب دیا کہ راؤ صاحب، آپ نے میرے ملک کے ساتھ کچھ بْرا نہیں کیا، بہت کچھ اچھا ہی کیا ہو گا لیکن بھٹو صاحب نے کچھ زیادہ اچھا نہیں کیا۔
سیاست اور ترقی کے مضمرات
تعلیمی اداروں، چھوٹی بڑی فیکٹریوں، بینکوں، کارخانوں کو قومی ملکیت میں لے کر شاہرائے ترقی سے دور کر دیا۔ ان کی آل اولاد نے بھی آئی پی پی مہنگی بجلی کے معاہدے کر کے اور سندھ میں کرپشن کلچر کو فروغ دے کر کوئی خدمت نہ کی ہے۔ بھٹو صاحب جانتے تھے کہ وہ اور ان کی آل نے بیسیوں سال یہاں حکومت کرنی ہے، لہذا پاکستان کو مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ہونا چاہیے۔
لینڈ ریفارمز غریب طبقات، کسانوں، مزدوروں کو لپ سروس دینا، روٹی، کپڑا، مکان دینے کے وعدے سب ووٹ بینک بڑھانے کے حربے تھے۔ پیپلز پارٹی، جہاں اس کی حکومت 50 سال سے ہے، آج بھی اپنے وعدے پورے نہیں کر سکی جبکہ بلوچستان کے بعد سب سے زیادہ غربت پاکستان کے صوبہ سندھ میں ہے۔
ماضی کی غلطیاں اور اصلاحات
پاکستان بھر میں اگر 60 سال پہلے ایوب خان کے دئیے ہوئے بنیادی جمہوریتوں کے نظام کو چلنے دیتے اور لوکل گورنمنٹ کے نظام کو مزید مضبوط بناتے، جیسے صدر جنرل پرویز مشرف نے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے نظام کو بنایا، تو آج ہم ترقی کی شاہراہ پر ہوتے۔
لوکل گورنمنٹ کا نظام جمہوریت کے پنپنے کی نرسریاں ہیں جو گاؤں گاؤں، ہر شہر، تحصیل، ضلع، ملک کے کونے کونے میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
حکومتی عزم اور سمت
اکثر حکمران پارٹیوں کے چیف نہیں چاہتے کہ ان کی خاندانی وراثتی سیاست کو کوئی چیلنج کرے یا کمزور کرنے کا باعث بنے۔ اگر گزشتہ 60 سالوں میں ہم نے وزرائے اعظم، ایم پی ایز اور ایم این ایز کو صرف قانون سازی، پالیسی سازی تک محدود رکھا ہوتا تو ان کے پاس کرنے کے لیے اور بھی بہت سے کام ہوتے۔
ختم نبوت کا عزم
ملک بھر میں صحت، تعلیم، سماجی و ثقافتی ترقی کے شعبے میں کام کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ کے میونسپل اداروں کو آبادی کی بنیاد پر ترقیاتی بجٹ فراہم کیا جاتا تو آج ہمارے تمام صوبے متوازن ترقی کر رہے ہوتے۔
آخری خیالات
افسوس کہ ہم نے گزشتہ 75 سالوں میں لوکل گورنمنٹ کا مضبوط ترقیاتی نظام بنا کر شاہراہِ ترقی پر چلنا نہیں سیکھا۔ ہم نے بلوچستان سمیت تمام صوبوں میں ایم پی ایز، ایم این ایز کو ترقیاتی فنڈز دے کر ضائع کیا ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








