خامنہ ای کے بیٹے کو سپریم لیڈر بناکر ایران نے بڑی غلطی کی ہے؛ ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے نئے سپریم لیڈر پر تبصرہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کو بڑی غلطی قرار دیا ہے۔
غلط فیصلہ: ٹرمپ کا بیان
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے کو رہنما منتخب کر کے ایک غلط فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، "میرا خیال ہے کہ ایران نے یہ بہت بڑی غلطی کی ہے۔" جب ان سے پوچھا گیا کہ اس غلط فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے تو انہوں نے جواب دیا، "دیکھتے ہیں۔"
مجھتبی خامنہ ای کی شخصیت
یاد رہے کہ ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک کمزور شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کی قیادت کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
ایران کے تیل پر ممکنہ قبضہ
ایران کے تیل پر ممکنہ قبضے کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اس بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرسکتے۔
ایران کے ساتھ جاری تنازع
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اور اس کے جوہری پروگرام کے تناظر میں امریکا تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
قیادت کی تبدیلی اور اس کے اثرات
ایران میں یہ قیادت کی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں بااثر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔
جنگی کشیدگی میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران میں اس تبدیلی نے پہلے سے جاری جنگی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور خطے میں سیاسی و عسکری صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
عالمی اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے باعث نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔








