منی لانڈرنگ؛ ٹک ٹاکر فضیلہ عباسی کے 25 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کیس خارج کرنے کی درخواست مسترد
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ میں 25 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کیس کو خارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ ٹک ٹاکر فضیلہ عباسی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کیخلاف درخواست بھی نمٹا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کارساز حادثے کے کیس میں مقامی عدالت نے ملزمہ نتاشہ دانش کو بری کر دیا
کِیس کا جائزہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق تیسرے کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹس کے تحت مقدمہ غیرقانونی قرار دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے نے کیس میں اختیارات سے تجاوز کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی کچھ بھی کہتا رہے،2 ماہ تڑپنے پھڑکنے، پہلو بدلنے کے بعد بالآخر26ویں ترمیم آئین کے حُجلۂ عروسی میں آ بیٹھی ہے: عرفان صدیقی
تحقیقات کا سلسلہ
عدالت نے بیان دیا کہ فضیلہ عباسی کیخلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت تحقیقات جاری رہیں گی۔ مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بظاہر شواہد موجود ہیں، جس کے تحت تحقیقاتی ایجنسی اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کے فیصلے میں آزاد ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آئینی بنچ نے اعلیٰ عدلیہ ججز کی پارلیمنٹ میں تقریروں کیخلاف درخواست خارج کردی
مبینہ کردار کا تعین
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ دوران تفتیش ایف بی آر حکام کے مبینہ کردار کا تعین بھی کیا جائے گا۔ الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں اکاؤنٹس فوری ڈی فریز کئے جائیں گے۔
الزامات کی نوعیت
یاد رہے کہ فضیلہ عباسی پر غیرقانونی طور پر رقوم بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام ہے۔








