منی لانڈرنگ؛ ٹک ٹاکر فضیلہ عباسی کے 25 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کیس خارج کرنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ میں 25 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کیس کو خارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ ٹک ٹاکر فضیلہ عباسی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کیخلاف درخواست بھی نمٹا دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: میں کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتا، ملزمان کو معاف کردیا ہے، دفاع میں تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوان کا عدالت میں بیان

کِیس کا جائزہ

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق تیسرے کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹس کے تحت مقدمہ غیرقانونی قرار دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے نے کیس میں اختیارات سے تجاوز کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: عبدالحکیم میں 2 افرادنے ٹیوشن جاتی ہوئی 16 سالہ لڑکی کو اغواء کرنے کے بعد روزے کی حالت میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا

تحقیقات کا سلسلہ

عدالت نے بیان دیا کہ فضیلہ عباسی کیخلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت تحقیقات جاری رہیں گی۔ مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بظاہر شواہد موجود ہیں، جس کے تحت تحقیقاتی ایجنسی اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کے فیصلے میں آزاد ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: قصور نے کھیلتا پنجاب گیمز ڈویژن لیول بوائز ہاکی کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

مبینہ کردار کا تعین

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ دوران تفتیش ایف بی آر حکام کے مبینہ کردار کا تعین بھی کیا جائے گا۔ الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں اکاؤنٹس فوری ڈی فریز کئے جائیں گے۔

الزامات کی نوعیت

یاد رہے کہ فضیلہ عباسی پر غیرقانونی طور پر رقوم بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...