امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ
ایران کے وزیرِ خارجہ کا بیان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں گلوکارہ و اداکارہ عارفہ صدیقی کا گھر بھی سیلاب سے متاثر
میزائل حملوں کی تیاری
امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے تک ایران میزائل حملے جاری رکھنے کیلئے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن نے اے این پی کی بڑی وکٹ اڑا دی
سپریم لیڈر کے مشیر کا مؤقف
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے خارجہ پالیسی کے مشیر کمال خرازی نے بھی کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور ایرانی فوج طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا لوکل ہائبرڈ الیکٹریکل گاڑیوں، بائیکس پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ
پاسداران انقلاب کا اعلان
علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا تعین ہم کریں گے، امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دیں گے۔
ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کے بارے میں ٹرمپ کی باتیں بےمعنی ہیں، خطے میں سلامتی یا تو سب کے لیے ہو گی یا کسی کے لیے نہیں ہوگی۔ جو ملک اسرائیلی وامریکی سفیروں کو نکالے گا وہ آبنائے ہرمز کو استعمال کر سکتا ہے، ان ممالک کو آج سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔








