ٹرمپ کا ایک بار پھر ایرانی سکول پر بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار ، صحافی کو سوال پر کیا جواب دیا ؟ جانیے
ٹرمپ کا بم حملے کی ذمے داری سے انکار
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی سکول پر بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سینئر اور جونیئر ہاکی ٹیم کے لیے اوپن ٹرائلز کا فیصلہ
میڈیا کے سوالات
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ ایران کے ہاتھ کسی طرح ٹوماہاک میزائل لگ گیا تھا اور انہوں نے اپنے ہی ایلیمنٹری سکول پر پہلے دن بم پھینک دیا۔ یہ بات کہنے والے صرف آپ ہی واحد انسان کیوں ہیں؟ جس پر ٹرمپ نے کہا کہ کیونکہ مجھے اس بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ملک میں موجود پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کو تسلی بخش قرار دے دیا
امریکی سے ذمے داری کا سوال
’’جنگ‘‘ کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران کے صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا امریکہ اس واقعے کی ذمے داری قبول کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں تیز بارش کا امکان
ٹرمپ کا جواب
اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ مجھے اس بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ ٹوماہاک ایک بہت طاقتور ہتھیار ہے اور اسے دوسرے ممالک بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ کئی ممالک کو فروخت کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے ایران کے پاس بھی کچھ ٹوماہاک ہوں، یہ ایران ہو سکتا ہے یا کوئی اور ملک، لیکن اس معاملے کی فی الحال تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان؛ بچی کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے والا ملزم زخمی حالت میں گرفتار
حملے کا پس منظر
واضح رہے کہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ ان حملوں کے ابتدائی اہداف میں جنوبی شہر میناب میں واقع ایک گرلز ایلیمنٹری سکول بھی شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے 4 ڈی ایس پی بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث، آئی جی سندھ نے انکوائری کا حکم دے دیا
امریکی اخبار کی رپورٹ
امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق سکول کو غالباً ٹوماہاک میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، جو ممکنہ طور پر امریکہ کی جانب سے داغا گیا تھا۔ کیونکہ اطلاعات کے مطابق ایران اور اسرائیل کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود نہیں ہیں۔
تفتیشی رائے
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ سکول کو ممکنہ طور پر امریکی میزائل نے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں طالبات اور اساتذہ سمیت کم از کم 175 افراد شہید ہوئے تھے۔








