منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

مصنف: رانا امیر احمد خاں

قسط: 331

چین، کوریا، ملائیشیاء، سنگاپور ہمارے ہی جیسے سماجی معاشرے تھے بلکہ 1960ء کے عشرے میں معاشی طور پر ہم سے بھی ابتر حالت میں تھے۔ وہ کہاں سے کہاں آگے نکل گئے ہیں، کیونکہ ان کو دیانتدار، وژن رکھنے والی مدبرانہ لیڈر شپ ماؤزے تنگ، چواین لائی، زی جن پنگ، مہاتیر محمد اور لی کوان یو کی شکل میں مل گئی، جنہوں نے اپنے معاشروں کو سماجی طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ مجھے لاہور لمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیس سے کلی اتفاق ہے جب وہ فرماتے ہیں:

"ہم نے اپنی تاریخ میں بھی دیکھا ہے کہ جب ریاست میں کچھ دم خم تھا، لیڈر شپ بھی مخلص ملی، وژن اور سمت کا تعین ہوا اور ترقی کی منازل خیرہ کْن رفتار سے طے کیں۔ انحصار اس بات پر ہے کہ ریاست کی طاقت کس کے پاس ہے۔ کون حکمران ہے؟ ہماری قسمت میں ابھی تک ایک ہی دور ترقی کے لحاظ سے سنہری تھا، ایوب خاں کا۔ ان کے دور میں مغرب میں سماجی اور معاشی ترقی کے حوالے سے جو لکھا جا رہا تھا، وہ ایوب خان نے پلے باندھ لیا تھا۔ اقتدار کی مرکزیت، ریاستی طاقت میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی، چھوٹا کنبہ، تعلیم کا پھیلاؤ اور سیاسی استحکام۔ جمہوریت کے خواب میں ہم نے تحریک چلا کر ان کو رخصت کیا، مگر پھر 'منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے' جو بعد میں آئے ان میں ایوبی دور کا کوئی ایک وصف، فلسفہ نہ تھا۔ بس اس کے بعد 'چراغوں میں روشنی نہ رہی' سب کردار آپ کے سامنے ہیں۔ زیادہ کہوں گا تو جمہوریت مخالف کی تہمت لگنا شروع ہو جائے گی۔ ہم ایوب خان کے بعد کتنی حکومتیں دیکھ چکے ہیں۔ بنیادی ترقی کے خدوخال میں مفت معیاری سرکاری تعلیم سب کے لیے، آبادی کے پھیلاؤ پر کنٹرول، مؤثر نظام عدل/قانون کی حکمرانی اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں ماحول کی یقینی فراہمی جیسے عوامل شامل ہیں، بعد میں آنے والوں میں سے کسی نے بھی ان بنیادی ترقی کے اصولوں پر تندہی، محنت، ریاضت اور یکسوئی کے ساتھ عمل نہیں کیا۔

(بحوالہ روزنامہ "دنیا" مورخہ 3 مئی 2021ء)

بھٹو صاحب کا دور

بھٹو صاحب کے 6 سالہ دورِ اقتدار میں ان کے چند اقدامات جن میں اپوزیشن کے تعاون سے 1973ء کے آئینِ پاکستان کی تیاری، اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد، احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اقلیت قرار دینا، بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کر کے بھارت کی قید سے ہزاروں فوجی و سویلین افراد کی پاکستان واپسی شامل ہیں، قابلِ ستائش ہیں۔ لیکن آئین کو پاس کروانے کے بعد اس کی پانچ اہم شقوں کو معطل کر کے آئین کا حلیہ بگاڑتے ہوئے جس طرح عوام کے بنیادی حقوق اور عدلیہ کے اختیارات کو سلب کرنے کی کوشش کی، صوبہ بلوچستان کی منتخب حکومت کو ڈسمس کر کے غیر جمہوری اقدامات کئے جن کے خلاف احتجاجاً صوبہ سرحد کی حکومت ازخود مستعفی ہو گئی۔

لیاقت باغ راولپنڈی میں اپوزیشن کے جلسۂ عام پر گولیاں چل گئیں جس میں متعدد سیاسی کارکن قتل ہوئے۔ نیشنل عوامی پارٹی کے چیف خان عبدالولی خاں، حبیب جالب اور بلوچ قبائل لیڈر خیر بخش مری، عطا اللہ مینگل، غوث بخش بزنجو کو گرفتار کرکے ان کے خلاف سیاسی مقدمات قائم کئے گئے جبکہ اجمل خٹک اور دیگر کابل بھاگ گئے۔ سندھ میں سندھی زبان کا متنازعہ بل پاس کروانے اور کراچی کے شہریوں کے تعلیمی میرٹ کو نظرانداز کر کے اندرون سندھ کے لیے ملازمتوں، تعلیمی اداروں میں کوٹہ مقرر کرنا وغیرہ۔ بھٹو نے تمام اپوزیشن پارٹیوں کو 9 ستاروں سے مزین جھنڈے تلے پی این اے (پاکستان قومی اتحاد) کے نام سے متحد و سرگرم عمل کر دیا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...