این پی سی نمائندہ کا پاکستان اور چین کے زرعی تعاون کو مضبوط کرنے پر زور
زرعی تعاون میں مزید گہرائی
نان ننگ (شِنہوا): نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کی نمائندہ لیاؤ یوینگ نے چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے بھینسوں کی صنعت میں تبادلوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی انتخاب: کیا مسلمان ووٹرز اگلے صدر کا انتخاب کریں گے؟-1
تبادلے کا عمل
چینی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور گوانگ شی ژوانگ خود مختار علاقے کے ماتحت بفیلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ لیاؤ نے کہا کہ ہم ہر سال سیکھنے کے مقاصد کے لئے پاکستانی تحقیقی اداروں کے ساتھ عملے کا تبادلہ کرتے ہیں، جس سے ٹیلنٹ کی نشوونما ہوتی ہے اور چین اور پاکستان کے درمیان بھینسوں کی صنعت میں تعاون کو فروغ ملتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم ان تبادلوں اور تعاون کو مزید وسعت دیں گے اور مزید سائنسی تحقیق اور منصوبوں کو فروغ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی تاریخ کی سب سے مشکل جیل کاٹنے کی ٹوئیٹ پر حماد حسن کا تبصرہ سامنے آگیا
بھینسوں کی صنعت کا کردار
بھینسوں کی صنعت گوانگ شی کی مخصوص زراعت کا ایک اہم جزو اور پاک چین زرعی تعاون کا ایک کلیدی شعبہ ہے۔ حالیہ برسوں میں، پاک چین جوائنٹ ریسرچ سینٹر فار بفیلو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں فریقوں نے اہم نتائج حاصل کئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں غیرت کے نام پر ایک اور لڑکی اور لڑکا قتل
نئی تکنیکوں کا اطلاق
چینی اور پاکستانی تکنیکی ماہرین نے ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان میں پہلی بار ان ویٹرو جنین کی پیداوار، منجمد کرنے کی تکنیک، منتقلی اور جینوم پر مبنی افزائش نسل جیسی بنیادی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی ہیں۔ اس سے ڈیری بھینسوں کی افزائش نسل کی جدید تکنیکوں میں موجود خلا کو پر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پارٹی رہنما عمران خان کی ہدایات پر پوری طرح عمل نہیں کرتے، اس لیے بشریٰ بی بی کو عملی میدان میں آگے لایا گیا، مشعال یوسفزئی
اجتماعی کارکردگی
جون 2024 میں، چین نے پاکستان سے 5 ہزار نیلی راوی بھینسوں کے جنین درآمد کئے۔ اپریل 2025 میں، گوانگ شی کے شہر نان ننگ میں واقع پاک چین ڈیری بفیلو بریڈنگ ڈیمانسٹریشن فارم میں ان جنین سے کامیابی کے ساتھ بچھڑے پیدا ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کمپیٹیشن کمیشن: 8 بڑی پولٹری ہیچریوں کو کارٹل بنانے پر 15 کروڑ روپے جرمانہ
سائنسی تبادلوں میں فروغ
لیاؤ برسوں سے پاک چین زرعی تعاون کو گہرا کرنے کی وکالت کر رہی ہیں۔ انہوں نے بھینسوں کی صنعت کو ایک سنگ میل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دوطرفہ سائنسی تبادلوں اور بیجوں کی صنعت میں مشترکہ اختراع کو مضبوط کرنے کی تجویز دی۔
یہ بھی پڑھیں: حماد اظہر کا این اے 129 کا ضمنی الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ
مستقبل کی تجاویز
انہوں نے تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لئے پاک چین جوائنٹ ریسرچ سنٹر کی حمایت جاری رکھنے، بیج کی صنعت میں اختراع، جنین ٹیکنالوجی اور بیماریوں سے بچاؤ کے لئے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے کی تجویز دی۔
اقتصادی راہداری میں اہمیت
لیاؤ نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی تعاون چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ایک اہم حصہ ہے۔ بھینسوں کی صنعت اپنی ٹھوس بنیاد کے ساتھ وسیع صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ ریاستی حکام بھینسوں کے شعبے میں سائنسی اور صنعتی تعاون کو گہرا کرنے کے لئے تعاون میں اضافہ جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک میں اعلیٰ معیار کی زرعی ترقی اور لوگوں کی معیشت میں بہتری لائی جا سکے۔








