صرف ٹرمپ ہی” دعا” نہیں کروا رہے نیتن یاہو بھی” مذہبی ٹچ” دے رہے ہیں…. عالمی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی
نئی عالمی بحث کا آغاز
واشنگٹن /تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) صرف ٹرمپ ہی "دعا" نہیں کروا رہے، نیتن یاہو بھی "مذہبی ٹچ" دے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی متحدہ عرب امارات کی قیادت اور عوام کو 53 ویں قومی دن پر مبارکباد
امریکہ اور اسرائیل کا مذہبی بیان
جیو نیوز کے مطابق، ایران پر حملے کو امریکہ اور اسرائیل مذہبی جنگ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ صرف ٹرمپ ہی ایونجلیک مسیحیوں سے غیر معمولی دعا نہیں کروا رہے بلکہ نیتن یاہو بھی غزہ جنگ سے اب تک مسلسل مذہبی ٹچ دے رہے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جب جنگ کو مقدس اصطلاحات میں بیان کیا جائے تو سیاسی سمجھوتہ مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر کی برطرف کردہ امریکی جنرل جو چین پر جوہری حملے کی دھمکی دے چکے تھے
عالمی سیاست میں نئی آگ
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے عالمی سیاست میں نئی آگ بھڑکا دی ہے۔ حیران کن طور پر دونوں ممالک نے اس کارروائی کو مذہبی اور بائبل کے تناظر میں پیش کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت پر نظر رکھنے کے لیے پہلا لانگ رینج ریڈار ایجاد کر لیا، بڑی خوشخبری
مذہبی بیان بازی پر تنقید
عالمی میڈیا اس پر شدید تنقید کر رہا ہے کہ انتہائی مذہبی بیان بازی نے فوجی فیصلوں کے پس منظر میں غیر ضروری مذہبی رنگ بھر دیا ہے، جس پر تحفظات بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے ایران کے علاوہ لبنان پر بھی حملے تیز کر دیے
ماضی کے مثالیں
سیاستدانوں کا جنگ کے دوران مذہبی زبان استعمال کرنا نیا نہیں ہے۔ نائن الیون حملوں کے بعد صدر جارج ڈبلیو بش نے آنے والی لڑائی کو صلیبی جنگ کہا تھا لیکن بڑھتی دشواریوں اور دباؤ کے بعد وائٹ ہاؤس نے اس بیان سے دوری اختیار کر لی کیونکہ اسے یوں سمجھا گیا کہ امریکہ اسلام کے خلاف مذہبی جنگ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین سے دوستی کا تنازع ، کوہاٹ میں 7 دوستوں کو قتل کرنے والے 3 سفاک قاتل گرفتار
روحانی حمایت کا دعویٰ
اب امریکی فوج میں دعوے سامنے آئے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو روحانی طور پر منتخب کیا گیا ہے اور فوجیوں کو مذہبی تقریبات اور دعاؤں کے ذریعے حوصلہ دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آل راؤنڈر عامر جمال کی ننھی شہزادی انتقال کرگئی
نیتن یاہو کا بائبل کے ذکر کا اثر
نیتن یاہو نے بھی بائبل میں دشمن عمالیق کا ذکر کرکے عوام میں "ہم بمقابلہ وہ" کے جذبات کو مضبوط کیا ہے۔
امریکی میڈیا کی بحث
امریکی میڈیا پر بھی تضادات اور دوہرے معیار جیسے موضوعات پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی بیانیہ عوام کی حمایت جیت سکتا ہے لیکن سیاسی سمجھوتے اور امن کے امکانات کو محدود بھی کر دیتا ہے۔








