ایران جنگ میں ٹرمپ کا بڑا یوٹرن، حملے کی ذمہ داری اپنے داماد سمیت مشیروں پر ڈال دی
ٹرمپ کا ایران پر امریکی حملوں سے یوٹرن
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کے فیصلے سے متعلق بڑا یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اقدام کی جانب ان کے قریبی مشیروں نے مائل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق سینیٹر عباس آفریدی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے
ایران کی صورتحال کا تجزیہ
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے متعلق صورتحال تیزی سے ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئی تھی جسے انہوں نے پوائنٹ آف نو ریٹرن قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حاجیوں کے لیے اے سی والے خیمے ہوں گے، ٹرانسپورٹ کا بھی بہترین انتظام کیا ہے: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور
مشیران کی رائے کا اثر
ان کے مطابق مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف، مشیر جیرڈ کشنر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ مشاورت کے بعد انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ایران امریکا پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: واشک اور ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.4 ریکارڈ
پیشگی کارروائی کی ضرورت
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا پیشگی کارروائی نہ کرتا تو ایران ایک ہفتے کے اندر حملہ کر سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی کے مڈٹرم امتحانات ایک ہفتے کیلئے ملتوی
امریکی حملوں کے نتائج
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ایران کی 51 بحری کشتیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ ڈرون بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایرانی ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک دن میں تاریخی کمی کے بعد سونے کی قیمت میں 3500 روپے کا اضافہ
دفاعی انٹرسیپٹرز کی صلاحیت
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس ایسے کم لاگت دفاعی انٹرسیپٹر موجود ہیں جو ایرانی ڈرون خطرات کا مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں داخل ہونے والا نوجوان ایک گھنٹے تک کیا کرتا رہا؟ ویڈیو بھی سامنے آ گئی
ایران کو خبردار کرنا
ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے عالمی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے یا آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا سخت فوجی ردعمل دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کا ایک اور کامیاب دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے۔
توانائی مارکیٹ میں ممکنہ تبدیلیاں
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے بعض تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صائم ایوب دنیا کے نمبرون ٹی ٹوئنٹی آل راؤنڈر بن گئے۔
ایران کے ساتھ جنگ کا امکان
ایک اور بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم بھی ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے تہران کو مزید کشیدگی سے باز رہنے کی تنبیہ کی۔
دنیا بھر میں عدم اطمینان
انہوں نے ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر مبینہ حملے کی اطلاعات کی تحقیقات جاری ہونے کا بھی ذکر کیا اور ایران کی نئی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہوگا آیا وہ امن کی راہ اختیار کرتی ہے یا نہیں۔








