ایران جنگ میں ٹرمپ کا بڑا یوٹرن، حملے کی ذمہ داری اپنے داماد سمیت مشیروں پر ڈال دی
ٹرمپ کا ایران پر امریکی حملوں سے یوٹرن
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کے فیصلے سے متعلق بڑا یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اقدام کی جانب ان کے قریبی مشیروں نے مائل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: روزمرہ معاملات زندگی کی انجام دہی میں دوسروں کی مرضی پر مبنی رویہ ہر قیمت پر ترک کر دیں، آپ کو اس صورتحال سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے
ایران کی صورتحال کا تجزیہ
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے متعلق صورتحال تیزی سے ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئی تھی جسے انہوں نے پوائنٹ آف نو ریٹرن قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا میڈیکل ریکارڈ چیف جسٹس کو یقین دہانی کے باوجود خاندان کو نہیں دیا گیا، ذاتی معالجین کو معائنے کی اجازت نہیں ، یہ انسانیت سوز سلوک ہے، سلمان اکرم راجا
مشیران کی رائے کا اثر
ان کے مطابق مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف، مشیر جیرڈ کشنر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ مشاورت کے بعد انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ایران امریکا پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والا نام نہاد تجزیہ محض پرانی پروپیگنڈا کہانیوں کی نئی شکل ہے، جسے غیر ملکی تبصرے کا لبادہ پہنا دیا گیا ،پی ٹی آئی کا اعلامیہ
پیشگی کارروائی کی ضرورت
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا پیشگی کارروائی نہ کرتا تو ایران ایک ہفتے کے اندر حملہ کر سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دادا کہا کرتے تھے”بیٹا! عزت غریبوں سے بنتی ہے، وہ تمھارے پاس ”آس“لے کر آتے ہیں۔ ان کی آس کبھی ٹوٹنے مت دینا، اللہ بھی تمھارا مدد گار ہو گا“
امریکی حملوں کے نتائج
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ایران کی 51 بحری کشتیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ ڈرون بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایرانی ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے اپنے ملک میں ہونیوالے ایونٹس کےلئے”ہائبرڈ ماڈل“مسترد کردیا
دفاعی انٹرسیپٹرز کی صلاحیت
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس ایسے کم لاگت دفاعی انٹرسیپٹر موجود ہیں جو ایرانی ڈرون خطرات کا مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی پر پیسے لوٹنا نوجوان کا جرم بن گیا، جان سے ہاتھ دھو بیٹھا
ایران کو خبردار کرنا
ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے عالمی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے یا آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا سخت فوجی ردعمل دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ، پارلیمنٹ اور ڈی چوک جانے والے تمام راستے بند، اراکین اسمبلی کی پولیس سے تکرار
توانائی مارکیٹ میں ممکنہ تبدیلیاں
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے بعض تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شراب نوشی کے بعد آدمی کا چہرہ سوج گیا، ڈاکٹر کے پاس گیا تو ایسی خطرناک بیماری کا انکشاف کہ زندگی ہی بدل گئی
ایران کے ساتھ جنگ کا امکان
ایک اور بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم بھی ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے تہران کو مزید کشیدگی سے باز رہنے کی تنبیہ کی۔
دنیا بھر میں عدم اطمینان
انہوں نے ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر مبینہ حملے کی اطلاعات کی تحقیقات جاری ہونے کا بھی ذکر کیا اور ایران کی نئی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہوگا آیا وہ امن کی راہ اختیار کرتی ہے یا نہیں۔








