بھارتی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: نوجوان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت دیدی

بھارت میں اہم عدالتی فیصلہ

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں ایک اہم عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے 13 سال سے کومے میں زندگی گزارنے والے نوجوان کو لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: منیب بٹ کا ’’قربانی کا اونٹ‘‘ بھاگ گیا، مداحوں سے خاص اپیل

عدالتی درخواست کی منظوری

عدالت نے ہرش رانا نامی 31 سالہ شخص کے والدین کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ مریض کی حالت میں بہتری کی کوئی امید نہیں، اس لیے انسانی وقار کو مدّنظر رکھتے ہوئے لائف سپورٹ واپس لیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میری زندگی 5 بنیادی میلانات کے گرد گھومتی ہے، نوکری چاکری، سیاحت، دوستی، عشق اور انسانیت۔سبھی کی اپنی اپنی مٹھاس اور کڑواہٹ ہے

فیصلے کی تفصیلات

عدالت کا یہ فیصلہ جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بینچ نے سنایا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لائف سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ دو بنیادوں پر ہونا چاہیے کہ علاج کو طبی مداخلت تصور کیا جائے اور یہ فیصلہ مریض کے بہترین مفاد میں ہو۔

یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس، شاہ محمود قریشی کو فرد جرم کے لیے 25 نومبر کو پیش کرنے کا حکم

ڈاکٹر کی ذمے داری

سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈاکٹر کا فرض مریض کا علاج کرنا ہے، مگر جب صحت یابی کی کوئی امید نہ رہے تو یہ ذمے داری اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاق کا کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہ دینے کا فیصلہ

پالی ایٹو کیئر کی ہدایت

عدالت نے ہدایت دی کہ مریض کو ہسپتال میں پالی ایٹو کیئر کے تحت رکھا جائے اور لائف سپورٹ باعزت طریقے سے مرحلہ وار ختم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان پاکستان پہنچ گیا

مستقبل کی قانون سازی

سپریم کورٹ نے موجودہ فیصلے میں حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اس حوالے سے واضح قانون سازی پر غور کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرانے کی کوشش کی، خطے میں مزید امریکی فوجی بھیج رہے ہیں، امریکی وزیر دفاع

ہرش رانا کا حادثہ

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ہرش رانا 2023ء میں یونیورسٹی کے طالب علم تھے، اس دوران وہ ایک عمارت کی چوتھی منزل سے گر گئے تھے، جس کے نتیجے میں شدید دماغی چوٹ کے باعث وہ مستقل ویجیٹیٹو اسٹیٹ میں چلے گئے۔

علاج کی تفصیلات

اس کے بعد سے وہ بستر تک محدود رہے، سانس لینے کے لیے ٹریکیوسٹومی ٹیوب اور خوراک کے لیے فیڈنگ ٹیوب پر انحصار کرتے رہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...