بھارتی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: نوجوان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت دیدی

بھارت میں اہم عدالتی فیصلہ

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں ایک اہم عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے 13 سال سے کومے میں زندگی گزارنے والے نوجوان کو لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: منہاج القرآن ویمن لیگ کا 38واں یوم تاسیس، دینی نہج پر خواتین کی تعلیم و تربیت ناگزیر ہے: خرم نواز گنڈاپور

عدالتی درخواست کی منظوری

عدالت نے ہرش رانا نامی 31 سالہ شخص کے والدین کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ مریض کی حالت میں بہتری کی کوئی امید نہیں، اس لیے انسانی وقار کو مدّنظر رکھتے ہوئے لائف سپورٹ واپس لیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیم کراچی ویلفیئر سوسائٹی انٹرنیشنل نے گرینڈ رمضان راشن تقسیم مہم کا چوتھا مرحلہ مکمل کر لیا

فیصلے کی تفصیلات

عدالت کا یہ فیصلہ جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بینچ نے سنایا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لائف سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ دو بنیادوں پر ہونا چاہیے کہ علاج کو طبی مداخلت تصور کیا جائے اور یہ فیصلہ مریض کے بہترین مفاد میں ہو۔

یہ بھی پڑھیں: خوب جیبیں بھر رہے ہیں، کسی کی گرفت کا خوف نہیں، جوابدہی کا ڈر نہیں، کرپشن میں بے تحاشا اضافہ، سیکرٹری آسانی سے بلیک میل ہو جاتا ہے، رکاوٹ ڈالنے والا “رل” جاتا ہے۔

ڈاکٹر کی ذمے داری

سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈاکٹر کا فرض مریض کا علاج کرنا ہے، مگر جب صحت یابی کی کوئی امید نہ رہے تو یہ ذمے داری اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو پیش کردی گئی

پالی ایٹو کیئر کی ہدایت

عدالت نے ہدایت دی کہ مریض کو ہسپتال میں پالی ایٹو کیئر کے تحت رکھا جائے اور لائف سپورٹ باعزت طریقے سے مرحلہ وار ختم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

مستقبل کی قانون سازی

سپریم کورٹ نے موجودہ فیصلے میں حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اس حوالے سے واضح قانون سازی پر غور کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری طارق سبحانی عمرہ کی سعادت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے

ہرش رانا کا حادثہ

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ہرش رانا 2023ء میں یونیورسٹی کے طالب علم تھے، اس دوران وہ ایک عمارت کی چوتھی منزل سے گر گئے تھے، جس کے نتیجے میں شدید دماغی چوٹ کے باعث وہ مستقل ویجیٹیٹو اسٹیٹ میں چلے گئے۔

علاج کی تفصیلات

اس کے بعد سے وہ بستر تک محدود رہے، سانس لینے کے لیے ٹریکیوسٹومی ٹیوب اور خوراک کے لیے فیڈنگ ٹیوب پر انحصار کرتے رہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...