بھارتی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: نوجوان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت دیدی
بھارت میں اہم عدالتی فیصلہ
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں ایک اہم عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے 13 سال سے کومے میں زندگی گزارنے والے نوجوان کو لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے علی مصطفیٰ ڈار کو وزیر اعلیٰ مریم نواز کا مشیر برائے مصنوعی ذہانت مقرر کردیا
عدالتی درخواست کی منظوری
عدالت نے ہرش رانا نامی 31 سالہ شخص کے والدین کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ مریض کی حالت میں بہتری کی کوئی امید نہیں، اس لیے انسانی وقار کو مدّنظر رکھتے ہوئے لائف سپورٹ واپس لیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا کے پی حکومت بچانے کے لیے بجٹ کی منظوری کا فیصلہ
فیصلے کی تفصیلات
عدالت کا یہ فیصلہ جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بینچ نے سنایا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لائف سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ دو بنیادوں پر ہونا چاہیے کہ علاج کو طبی مداخلت تصور کیا جائے اور یہ فیصلہ مریض کے بہترین مفاد میں ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے پچھلے کئی دنوں سے کوشش کر رہے تھے، علی امین گنڈپور
ڈاکٹر کی ذمے داری
سپریم کورٹ نے کہا کہ ڈاکٹر کا فرض مریض کا علاج کرنا ہے، مگر جب صحت یابی کی کوئی امید نہ رہے تو یہ ذمے داری اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سوات میں سیاحوں کی موت نہیں بلکہ تحریک انصاف کے نظام کی موت ہوئی ہے، عطا اللہ تارڑ
پالی ایٹو کیئر کی ہدایت
عدالت نے ہدایت دی کہ مریض کو ہسپتال میں پالی ایٹو کیئر کے تحت رکھا جائے اور لائف سپورٹ باعزت طریقے سے مرحلہ وار ختم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے جوابی ٹیرف کی وجہ سے بے یقینی، امریکی ڈالر کی قیمت میں زبردست کمی
مستقبل کی قانون سازی
سپریم کورٹ نے موجودہ فیصلے میں حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اس حوالے سے واضح قانون سازی پر غور کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ، بھارتی پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے نے مودی کا جھوٹ بے نقاب کردیا
ہرش رانا کا حادثہ
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ہرش رانا 2023ء میں یونیورسٹی کے طالب علم تھے، اس دوران وہ ایک عمارت کی چوتھی منزل سے گر گئے تھے، جس کے نتیجے میں شدید دماغی چوٹ کے باعث وہ مستقل ویجیٹیٹو اسٹیٹ میں چلے گئے۔
علاج کی تفصیلات
اس کے بعد سے وہ بستر تک محدود رہے، سانس لینے کے لیے ٹریکیوسٹومی ٹیوب اور خوراک کے لیے فیڈنگ ٹیوب پر انحصار کرتے رہے۔








