بابراعظم کے خلاف خاتون کو ہراساں کرنے کے الزامات پر مقدمہ درج کرنے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائیکورٹ نے سابق کپتان بابر اعظم پر خاتون کو ہراساں کرنے کے الزامات کے تحت سیشن کورٹ کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔
یہ بھی پڑھیں: چراغ پھر بھی ڈرے ڈرے ہیں بحالِ قیدی۔۔۔
سماعت کی تفصیلات
جسٹس اسجد جاوید گرال نے بابراعظم کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے بابراعظم پر مقدمہ درج کرنے کے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست منظور کر لی۔ بابراعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت نے دلائل دئیے۔ وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور خاتون حمیزہ مختار کے وکلاء بھی پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: آج دیوالی، سرحد پار سے آلودگی کے خطرات پر اینٹی سموگ گنز تیار، ہاٹ سپاٹس پہ آپریشن شروع
بابراعظم کے وکیل کے دلائل
بابراعظم کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار خاتون نے 2018 میں بھی بے بنیاد درخواست دی، خاتون نے بابراعظم پر ہراسانی کا جھوٹا الزام لگایا۔ سیشن کورٹ کا اندراج مقدمہ کا آرڈر قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔
خاتون کے وکیل کی جانب سے مخالفت
خاتون حمیزہ مختار کے وکیل نے بھی کرکٹر بابراعظم کی درخواست کی مخالفت کی۔ سیشن کورٹ نے خاتون کی درخواست پر 2021 میں بابراعظم پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔








