آج کل کے حالات پر نظر ڈالیں تو ہم رشوت اور سفارش کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکے ہیں، کوئی پرسان حال نہیں، ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے

مصنف کا تعارف

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:84

یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

آسٹریلیا کی جانب سفر کا فیصلہ

یہ 1960ء کی بات ہے کہ آسٹریلیا میں ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کے داخلہ کیلئے درخواست گذاری گئی تھی جو منظور ہوئی۔ اب فیصلہ کرنا تھا کہ موجودہ ملازمت پر جو واپڈا کے پروجیکٹ جی ڈبلیو ڈی او میں بطور جونیئر ریسرچ آفیسر، اسے جاری رکھا جائے یا آسٹریلیا کو روانہ ہوا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک اور خوشخبری ۔۔۔حمزہ خان نے آسٹریلیا میں گولڈن اوپن سکواش چیمپئن شپ جیت لی

مشورے کا حصول

ہمارے ایک سینئر آفیسر تھے جن کا نام این یو خان تھا۔ میں نے اُن سے رابطہ کیا تاکہ وہ دونوں آپشنز کا تقابلی جائزہ لے کر بتائیں کہ ہمارا کس پروجیکٹ میں فائدہ ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے مجھے اپنے دولت کدّے پہ بلا لیا اور ایک لمبی نشست میں موجودہ تنخواہ کا دو سال کا تخمینہ لگایا۔

شام ڈھلے، این یو خان صاحب نے فیصلہ سنا دیا کہ جناب یہیں نوکری جاری رکھی جائے۔ اسی طرح فائدہ ہے۔ لہٰذا ہم اُن کی اِس حکیمانہ سوچ میں دبے اُٹھے اور گھر کی راہ لی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی رشوت خوری کیس: سائبر کرائم افسران کا جسمانی ریمانڈ منظور

ریوالور کا لائسنس

1964ء میں بطور جونیئر ریسرچ آفیسر ہر ماہ پہلا ہفتہ لاہور میں گذارتا۔ دفتر سے ”سوئل سروے“ کے لیے ضروری سازو سامان لیتا۔ اپنی او رلیبر کی تنخواہیں، گاڑی کے لیے پٹرول کے پیسے وصول کرتا۔ مہینے کے 3 ہفتے پنجاب سندھ کے دور دراز علاقوں میں ایک مُشقت طلب ”سوائل سروے“ کی ڈیوٹی ادا کرتا۔

ایک دن لاہور میں قیام کے دوران، میں نے ریوالور کا لائسنس حاصل کرنے کے لئے دفتر میں ایک لیٹر تحریر کروا کر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور کو بھیجا۔ مہینے کے آخر میں جب میں فیلڈ ڈیوٹی سے واپس آیا تو پتہ چلا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور کی جانب سے مجھے ریوالور کا لائسنس دیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی سے بحرین کے ہم منصب راشد بن عبداللہ الخلفیہ کا ٹیلیفونک رابطہ

حالات کا تجزیہ

اِس ساری رُوئیداد بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم آج کل کے حالات پر نظر ڈالیں کہ کیا اب ایسا ممکن ہے۔ ہم رشوت، سفارش کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکے ہیں اور کوئی پُرسان حال نہیں۔ لُوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، نَفسی نَفسی کا عالم ہے۔

سچے پاکستانی کی کہانی

1964ء کے موسم بہار میں، ”زیدی صاحب“ نے میرے ایک کولیگ ”محمد حسین“ کو لائل پور (اب فیصل آباد) کے محکمہ نہر کے دفاتر سے کچھ ضروری زرعی اعداد و شمار لانے کے لیے بھیجا۔ سرکاری گاڑی سے وہ لائل پور روانہ ہوگیا اور وہاں پہنچ کر کی گئی کارروائی کے بعد واپس آگیا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...