جو ردائے نور ہے مستقل۔۔یہی طاق راتوں کی شان ہے
جو ردائے نور ہے مستقل
جو ردائے نور ہے مستقل۔۔یہی طاق راتوں کی شان ہے
میرے زخمِ دل ہوئے مندمل یہی طاق راتوں کی شان ہے
یہ بھی پڑھیں: ایران کے پاس ضروری دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں، محمد مہدی ایمانی پور
تازگی و بندگی
یہ جو جسم و جاں میں ہے تازگی۔یہ جو خوب تر ہوئی بندگی
یہ جو روح اب نہیں مضمحل یہی طاق راتوں کی شان ہے
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور نے عمران خان کو اپنی آنکھ عطیہ دینے کا اعلان کر دیا
رہِ آگہی
رہِ آگہی کے ہیں در کھلے۔۔لگے زنگ دل کے دھلے دھلے
لگیں رب سے رابطے متصل۔۔یہی طاق راتوں کی شان ہے
یہ بھی پڑھیں: 1600 سال پرانا لوہے کا وہ ستون جس پر آج تک زنگ نہیں لگا، توپ کا گولہ بھی اسے نہ گراسکا
بندھیں ہچکیاں
بندھیں ہچکیاں جو قیام میں۔۔جو رکوع رکے ہیں سلام میں
جو دعا ہے توبہ پہ مشتمل۔۔یہی طاق راتوں کی شان ہے
فضائے شب
ہو فضائے شب بھی خنک خنک۔۔۔کوئی چاپ سی ہو فلک فلک
نظر آئے موسمِ معتدل۔۔یہی طاق راتوں کی شان ہے
کلام: سیدہ صائمہ کامران








