ہر سطح پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے”کچھ شرم نہیں آئی تمھیں۔ تمھارے خلاف لکھ دوں تو نوکری سے جاؤ گے“ کیسے جان بچائی اللہ ہی جانتا ہے
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 467
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور آئی ایم ایف کے درمیان ملاقات مؤخر
معاشرتی مسائل
یہاں شاید دونوں ہی وجوہات ہیں۔
”ڈسمنڈ ٹوٹو“ کہتا ہے؛ ”جب تم چوروں ڈاکوؤں کو اقتدار میں دیکھو گے تو پڑھے لکھے نوجوان کو کیا درس دو گے۔“
”بابا بلھے شاہ“ کہتے ہیں؛ بے نسلے لوگوں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے، تم جتنی عزت دو گے وہ تمھیں اتنی ہی تکلیف پہنچائیں گے۔
جب کسی خاص طبقے کی لوٹ مار کسی سوسائٹی میں طرز زندگی بن جائے تو تھوڑے عرصہ میں ایسے افراد اپنے لئے خود ایسا قانونی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں جو ان کی زندگی کو تحفظ دیتا ہے۔
اور بقول حضرت اقبالؒ؛ ”سلطان کی بھوک ملک کو کھا جاتی ہے۔“
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے سندھ کو یرغمال بنایا ہوا ہے، ہمیں قبضے کا یہ نظام ختم کرنا ہوگا، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان
پولیس اور بدعنوانی
پولیس والے بھی شامل ہیں؛
میرا دوست اور ایک بیج جونئیر عبدالحمید قاسم ڈی او سی او سیالکوٹ تھا۔ وہ وزیر بلدیات منشا اللہ بٹ کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے ٹی ایم او ٹی ایم اے سیالکوٹ کا ایڈیشنل چارج بھی اس کے پاس تھا۔
یہاں ایک قطعہ اراضی پر پولیس نے ایک غیر قانونی عمارت تعمیر کر لی۔ غالباً پولیس کلب۔
کمشنر کا کوئی رشتہ دار اس عمارت کو ان کے نوٹس میں لایا اور وہ اس عمارت کے خلاف کاروائی پر تل گئے۔
ندیم سرور ان دنو ں ڈی سی او سیالکوٹ تھے (بعد میں وہ ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب بھی رہے۔)
اشتمال کے ایک کیس میں یہ ملوث ہوئے۔ پہلے سے فیصلہ شدہ کیس کا فیصلہ ندیم نے دوسری پارٹی سے مل کر بڑی رقم کے عوض بدلنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کیخلاف جان کا نذرانہ دینے پر سیکیورٹی اہلکاروں کو سلام پیش کرتے ہیں: قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی
کمشنر کی کڑ ی پوچھ گچھ
کمشنر کے نوٹس میں آئی تو ندیم کی زندگی اذیت میں آ گئی۔
اسے کمشنر کی کڑ ی پوچھ گچھ کا سامنا رہا۔ خوب بے عزتی کروائی۔
اسے جو کچھ کہا گیا میں چشم دید گواہ تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے کمشنر کو کہتے سنا؛ ”کچھ شرم نہیں آئی تمھیں۔ چلو بھر پانی نہیں چند قطروں میں ڈوب مرنا چاہیے۔ تمھارے خلاف لکھ دوں تو تم نوکری سے جاؤ گے۔“
اس نے کیسے جان بچائی اللہ ہی جانتا ہے۔ میرے خیال میں اس نے پرانے ہی فیصلے کو بحال کرکے اس مشکل سے نکلا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے ’’ستھرا پنجاب پروگرام‘‘ ماڈل کی تفصیلات مانگی ہیں: عظمیٰ بخاری
غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ
قاسم کی رپورٹ کے مطابق ”اس عمارت کا نہ ہی نقشہ منظور کروایا گیا تھا اور نہ ہی عمارت کی تعمیر کا کوئی ریکارڈ ٹی ایم اے کے دفتر میں تھا۔“
کمشنر کو آگاہ کیا گیا۔ وہ حسب عادت بولے؛ ”ملوث افراد کے خلاف اینٹی کرپشن میں ریفرنس بھجوا دو۔“
ملوث افراد میں پولیس اور ٹی ایم اے کے ملازمین شامل تھے۔
میں قاسم کو بچانا چاہ رہا تھا گو وہ عمارت اس کے دور میں تعمیر بھی نہ ہوئی تھی۔ کمشنر کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا۔
در حقیقت وہ میرے کندھے پر بندوق رکھ کر استعمال کرنا چاہ رہے تھے اور میں اپنا کندھا اس بندوق کے لئے دینا نہیں چاہتا تھا۔
مجھے خیال آیا کیوں نہ کمشنر کا ہی کندھا استعمال کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطی کشیدگی؛ ایشیائی مارکیٹس شدید دباؤ کا شکار، پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاؤ جاری
کمشنر کے ساتھ مذاکرات
میں نے کمشنر کو نوٹ لکھا؛ ”کمشنر کے نوٹس میں یہ غیر قانونی کمرشل تعمیر آئی ہے۔ رپورٹ حاصل کرنے کے بعد اس میں درج ذیل لوگ ملوث پائے گئے ہیں۔
لہٰذا ان کے خلاف اینٹی کرپشن میں کمشنر کی ہدایات کے مطابق مقدمہ درج کرانے کی اجازت دی جائے۔“
ڈیڑھ صفحے کا نوٹ کمشنر کے کیمپ آفس میں ان کے پی ایس کے ذریعے بھجوایا۔
ڈرافٹ ریفرنس بھی لف تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں کمشنر کا فون آ گیا؛ ”شہزاد! تم کیا کہتے ہو۔“
میں نے جواب دیا؛ ”جی سر! اکیلے ٹی ایم اے والے قصور وار نہیں۔ ریفرنس تو سب کے خلاف بنتا ہے۔ سر! ہونا ہوانا کچھ نہیں سوائے کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کرنے والی بات ہے۔
میں نے تو ڈرافٹ ریفرنس ساتھ بھجوایا ہے اب جیسے آپ مناسب سمجھیں۔“
یہ بھی پڑھیں: مونال ریسٹورنٹ گرانے کے فیصلے پر اسٹے آرڈر دینے والا جج معطل
نتیجہ
کہنے لگے؛ ”بات تمھاری ٹھیک ہے۔ چلو رہنے دو۔ قاسم کو بھی بتا دو۔“
فون بند ہوا۔ کمشنر نے اپنی جان بچائی اور میں نے قاسم کی۔ ہر سطح پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔
قاسم کو فون کرکے ساری بات بتائی یقیناً وہ بھی ریلیکس ہوا ہو گا اور شاید میرا ممنون بھی۔
بعد میں وہ ڈائریکٹر مقامی حکومت گوجرانوالہ بھی رہا تھا اور وہیں سے ریٹائیر ہوا۔ یار دوست انسان ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








