ایران کے خلاف فوجی کارروائی دراصل ’’مسیحا کی واپسی‘‘ کی راہ ہموار کر رہی ہے: نیتن یاہو
اسرائیل کے وزیر اعظم کا بیان
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’’ایران کیخلاف فوجی کارروائی دراصل ’مسیحا کی واپسی‘ کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر اسرائیل کا حملہ ناقابل قبول اور بلاجواز ہے، دفتر خارجہ
ایونجلیک مسیحی حلقوں کی سرگرمیاں
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی ایونجلیک مسیحی حلقوں کے خصوصی دعائیہ اجتماعات میں شرکت جاری ہے تو دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی فوجی کارروائی دراصل ’’مسیحا کی واپسی‘‘ کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر کویت کے ولی عہد سے ملاقات
امریکی فوج کی مذہبی حمایت
اس سے قبل امریکی فوج میں دعوے سامنے آئے تھے کہ صدر ٹرمپ کو روحانی طور پر منتخب کیا گیا ہے اور فوجیوں کو مذہبی تقریبات اور دعاؤں کے ذریعے حوصلہ دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے لیے مارچ میں خام تیل کے 4 جہازوں کا انتظام ہو گیا
ایران کے خلاف مذہبی جنگ کا پروپیگنڈا
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا مذہبی جنگ کا پروپیگنڈا جاری ہے جس نے عالمی میڈیا اور ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کو مذہبی اور بائبل کے تناظر میں پیش کیا ہے جس سے عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب جنگ کو مقدس اصطلاحات میں بیان کیا جائے تو سیاسی سمجھوتہ مشکل ہوجاتا ہے۔








