آزادیٔ اظہار آئینی حدود اور قومی مفادات کے ساتھ مشروط ہے، آئینی و قانونی ماہر حافظ احسان کھوکھرایڈووکیٹ

آزادیٔ اظہار کا آئینی حق

اسلام آباد (اے پی پی) آئینی و بین الاقوامی قوانین کے ماہر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان میں آزادیٔ اظہار ایک بنیادی آئینی حق ہے تاہم اسے آئین میں طے کردہ حدود اور قومی مفادات کے دائرے میں رہتے ہوئے استعمال کرنا ضروری ہے خصوصاً ایسے معاملات میں جو پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو متاثر کر سکتے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ایمان اور یقین کا معجزہ: نواب کی بیٹی کی زندگی کا حیرت انگیز واقعہ

آزادیٔ اظہار کی اہمیت

ماہر آئینی و بین الاقوامی قانون اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے "اے پی پی" کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آزادیٔ اظہار کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی اساس ہے جو شہریوں کو اپنے خیالات کے اظہار، حکومتی پالیسیوں پر تنقید اور قومی امور پر کھلے مباحثے کا حق فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انڈیا کا نیوزی لینڈ کے ہاتھوں کلین سویپ: ‘گمبھیر کے دور میں خوش آمدید’-1

آزادیٔ اظہار کی حدود

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا آئین آزادیٔ اظہار کو ایک مطلق اور غیر محدود حق قرار نہیں دیتا بلکہ اس پر قانون کے ذریعے معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد اسلام کی عظمت، پاکستان کی سلامتی و سالمیت، امنِ عامہ، شائستگی و اخلاقیات، توہین عدالت اور جرم کے ارتکاب یا اس کی ترغیب کی روک تھام کے ساتھ ساتھ دوست غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا تحفظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امرتسر میں 5 سے 6 دھماکوں کی آوازیں

سفارتی تعلقات پر اثرات

حافظ احسان احمد کھوکھر کے مطابق پاکستان دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ سیاسی، معاشی اور تزویراتی شراکت داری رکھتا ہے، اس لیے اگر کسی دوست ملک کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات یا غلط معلومات پھیلائی جائیں تو اس سے پاکستان کی سفارتی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور غیر ضروری کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ آئین میں موجود یہ شق جائز تنقید یا علمی و صحافتی مباحثے کو نہیں روکتی بلکہ اس کا مقصد صرف ایسے غیر ذمہ دارانہ اظہار کو روکنا ہے جو دانستہ طور پر پاکستان کے سفارتی مفادات کو نقصان پہنچائے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں مقامی سطح پر 13 اگست کو عام تعطیل کا اعلان

عالمی حالات کی اہمیت

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس امر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کہ عوامی مباحث حقائق پر مبنی اور ذمہ دارانہ ہوں۔ پاکستان کے مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کے ساتھ مضبوط سفارتی اور معاشی تعلقات ہیں جبکہ لاکھوں پاکستانی وہاں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان بھی مختلف فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ آزادیٔ اظہار کو آئینی حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بغداد میں امریکی سفارتخانہ پر میزائل حملہ

آئینی پابندیوں کی مثالیں

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو بنام وفاقِ پاکستان (PLD 1988 SC 416) اور پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن بنام پیمرا (PLD 2016 SC 692) کے مقدمات میں عدالت عظمیٰ نے بنیادی حقوق کے ساتھ آئینی پابندیوں کے اصول کو تسلیم کیا۔ حافظ احسان احمد کھوکھر کے مطابق دنیا کے دیگر جمہوری ممالک میں بھی آزادیٔ اظہار اور ریاستی مفادات کے درمیان توازن کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

ذمہ داری کا احساس

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بیانات بہت تیزی سے پھیلتے ہیں، اس لیے صحافیوں، تجزیہ کاروں، وکلاء، اساتذہ اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ اظہارِ رائے کو ذمہ داری اور آئینی شعور کے ساتھ استعمال کریں۔ حقیقی جمہوری پختگی صرف آزاد اظہار میں نہیں بلکہ ذمہ دارانہ اظہار میں مضمر ہوتی ہے، اور جب آزادیٔ اظہار آئینی اصولوں اور قومی مفادات کے مطابق استعمال کی جائے تو یہ جمہوریت کو مضبوط اور پاکستان کے عالمی وقار کو مستحکم کرتی ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...