مسلم دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرف ہیں، ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کا مسلم ممالک کے لیے پیغام
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے امریکہ کے حملوں سے متعلق پڑوسی ملکوں سے ان کا واضح موقف مانگ لیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی اسرائیل کی بمباری سے 200 سے زائد بچے اور سینکڑوں شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ رپورٹس کے مطابق، امریکی افواج کی میزبان ریاستیں قتل عام کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ان پڑوسی ریاستوں کو اپنا موقف فوری واضح کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی
ایران کے سیکیورٹی چیف کا پیغام
دوسری طرف، ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک سے سوال کیا کہ وہ کس طرف ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق، علی لاریجانی نے مسلم ممالک کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران اپنی جدوجہد میں ڈٹ کر کھڑا ہے، مسلم دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرف ہیں۔ لاریجانی نے کہا کہ جب ایران پر حملہ ہوا تو مسلم اکثریتی ممالک کی طرف سے حمایت نہ ملنے پر افسوس ہوا۔
ایران کی خاموشی کا امکان نہیں
انہوں نے واضح کیا کہ ایران سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہاتھ باندھے خاموش کھڑا رہے۔ لاریجانی نے کہا کہ آج کی اصل لڑائی میں امریکہ اور اسرائیل ایک طرف اور ایران و مزاحمتی قوتیں دوسری طرف ہیں۔ تو پھر آپ کس طرف ہیں؟ ایرانی رہنما نے مسلم اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران خطے پر تسلط قائم کرنے کا خواہاں نہیں بلکہ امت مسلمہ کو متحد دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل آپ کے وفادار نہیں، درحقیقت یہ آپ کا دشمن ہیں۔








