آبنائے ہرمز کی بندش، بھارت کے کتنے جہاز خلیجی پانیوں میں پھنسے ہیں، ایران نے کیا مطالبہ کر دیا۔۔ ؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
آبنائے ہرمز کی بندش
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں بھارت کے کتنے جہاز خلیجی پانیوں میں پھنسے ہیں؟ ایران نے کیا مطالبہ کر دیا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان کی ون ڈے کپتانی خطرے میں پڑ گئی
ایران کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق، ایران نے آبنائے ہرمز سے بھارتی جہازوں کے گزرنے کی بات چیت کے دوران، بھارت کے زیر قبضہ اپنے 3 ٹینکر چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسیحی آج ایسٹر کا تہوار منا رہے ہیں
بھارتی جہازوں کی صورتحال
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق، بھارت کے پرچم بردار 22 جہاز خلیجی پانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ ایران نے بھارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت کے بدلے ادویات اور طبی سامان کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں صدارتی انتخاب کے نتائج سے قبل نیشنل زو کی ہتھنی کملا مر گئی
بھارت کی جانب سے ٹینکرز کی ضبطگی
’’جیو نیوز‘‘ نے بتایا کہ خبر ایجنسی کے مطابق بھارت نے فروری میں ایران کے 3 ٹینکروں کو ضبط کیا تھا۔ بھارتی حکام کے مطابق ان ٹینکروں کو بھارتی سمندری حدود کے قریب یہ الزام لگا کر ضبط کیا گیا کہ انہوں نے اپنی شناخت یا نقل و حرکت کو چھپایا یا تبدیل کیا اور وہ سمندر میں تیل کی غیر قانونی منتقلی میں ملوث تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چاروں طرف دہشت تھی، ہر کوئی تنہائی کا شکار اور ہر قسم کے جبر کا سامنا کر رہا تھا، کوئی پرسان حال نہ تھا، سب ان سختیوں کو برداشت کرنے پر مجبور تھے۔
ایرانی سفیر کی ملاقات
رپورٹ کے مطابق، بھارت میں تعینات ایرانی سفیر نے نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقات کی تھی اور اس معاملے پر بات چیت کی تھی۔ بھارتی حکام کے مطابق ایران نے حال ہی میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے 2 بھارتی ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تھی، جن میں سے ایک پیر کے روز بھارت واپس پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 2246 ٹریڈرز کو کل سے پتنگوں، گڈوں اور ڈور کی فروخت کی اجازت مل گئی
بھارتی شہریوں کی تعداد
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج میں کم از کم 22 بھارتی پرچم بردار جہاز اور ان پر سوار 611 بھارتی شہری موجود ہیں۔
گھریلو گیس کی قلت
ایک بھارتی ذریعے کے مطابق، ان میں سے 6 جہاز ایل پی جی سے بھرے ہوئے ہیں اور بھارت چاہتا ہے کہ سب سے پہلے ان کو گزرنے کی اجازت ملے تاکہ گھریلو گیس کی قلت کم کی جا سکے۔ بھارت کی مجموعی ایل پی جی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد خلیجی ممالک سے آتا ہے۔








