ایران جنگ پر امریکی انسدادِ دہشت گردی کے اعلیٰ عہدیدار کا استعفیٰ
انسدادِ دہشت گردی کے عہدیدار کا استعفیٰ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹرمپ انتظامیہ میں انسدادِ دہشت گردی کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے ایران کے ساتھ جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور صدر پر زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا فیصلہ واپس لیں.
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کو بہترین میسر علاج فراہم کیا گیا، یہ افراتفری اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں: رانا ثناء اللہ
ایران کے بارے میں خط
بی بی سی نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر پوسٹ کیے گئے ایک خط میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے کہا کہ ایران سے امریکہ کو "کوئی فوری خطرہ" لاحق نہیں تھا.
یہ بھی پڑھیں: اٹلی پاکستانی شہریوں کے لیے نوکریوں میں کوٹہ مختص کرنے والا پہلا یورپی ملک بن گیا
ٹرمپ انتظامیہ پر الزامات
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے "یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ پر شروع کی ہے." 45 سالہ کینٹ امریکی اسپیشل فورسز اور سی آئی اے کے تجربہ کار اہلکار ہیں جن کی اہلیہ نیوی کرپٹولوجک ٹیکنیشن شینن کینٹ، 2019 میں شام میں ایک خودکش دھماکے میں ماری گئی تھیں.
غلط معلومات کا انکشاف
کینٹ نے الزام لگایا کہ "اعلیٰ سطح کے اسرائیلی حکام" اور بااثر امریکی صحافیوں نے ایسی "غلط معلومات" پھیلائیں جس کی وجہ سے ٹرمپ نے اپنے "امریکہ فرسٹ" (پہلے امریکہ) کے منشور کو کمزور کیا. خط میں مزید کہا گیا کہ "اس پروپیگنڈے کو آپ کو یہ یقین دلانے کے لیے استعمال کیا گیا کہ ایران امریکہ کے لیے ایک فوری خطرہ بن چکا ہے. یہ ایک جھوٹ تھا."








